سورۃ الاحزاب میں ارشاد خداوندی ہے : اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عورتوں یعنی بیبیوں تم کسی دوسری عورت کی طرح نہیں یعنی نہ تم میں سے کوئی ایک نہ کسی غیر عورت کی طرح ہے اور نہ تمہاری جماعت دوسری عورتوں کی جماعت کی طرح ہے۔ یعنی جو فضیلت تمہیں اس نسبت عالی کی وجہ سے حاصل ہے وہ کسی اور عورت کو حاصل نہیں اور تمہاری ذمہ داری بھی ان سے کہیں زیادہ ہے۔ جن کے رتبے ہیں سو ان کو مشکل بھی ہے ۔

چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ تمہارا مرتبہ میرے نزیک دوسری نیک مومن عورتوں کے برابر نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک تمہاری عزت ان سے زیادہ اور تمہارے اعمال کا ثواب بھی ان سے بڑھ کر ہے۔ بشرطیکہ تم اللّٰہ کے حکم کی موافقت اور اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خوشنودی کے باعث ہونے والے کاموں  کی تکمیل کرتی رہو۔ لہٰذا تم پردہ بوجہ ضرورت شدید کسی غیر محرم اجنبی کے ساتھ گفتگو کے موقع پر نزاکت و لطافت اور نرمی و ملائمت سے اجتناب کرو۔ اس لئے کہ عورتوں کی آواز میں فطرتاً نرمی اور نزاکت ہوتی ہے اور جاذبیت و مقناطیسیت بھی۔ اسی وجہ سے مخاطب کے دل میں ان کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے ۔

موجودہ زمانہ کے تقاضوں سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل اورقابل ترجیح ہے۔ اس سلسلہ میں میں فقہا میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر چہرہ اور ہتھیلیوں پر نظر پڑ جانے سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو بالا اتفاق ان کو کھولنا جائز نہیں یعنی عورت کے لئے کھولنا اور مردکے لئے دیکھنا۔

یہ تو اظہر من الشمس ہے کہ حسن و زینت کا اصل مرکز چہرہ ہے اور زمانہ نہایت فتنہ و فساد کا ہے غلبہ ہوس و معصیت کا ہے اس لئے خاص صورتوں، شدید ضرورتوں اور ناگزیر مجبوریوں کی صورت کے بغیر علاج معالجہ یا کسی شدید خطرہ کے عورت کو در پیش ہو اجنبی مردوں کے سامنے قصداً کھولنا بھی جائز نہیں اور مردوں کے لئے بھی اس کی طرف بلا کسی شرعی ضرورت اور شدید مجبوری کے نظر کرنا جائز نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *