تاریخ کی نسبت شاعری، حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔
جو شخص لوگوں سے کنارہ کشی کرتا ہے تو اس سے مل اور جو شخص لوگوں سے ملنے کا عادی ہو تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر۔
انسان کی طبیعت کا حال اس کے چھوٹے چھوٹے کاموں سے معلوم ہوتا ہے، بڑے بڑے کاموں سے نہیں، کیونکہ بڑے کام وہ بہت سوچ بچار کے بعد کرتا ہے اور بعض اوقات اس کے میلان کے بالکل بر خلاف ہوتے ہیں۔
جو چیز حاصل نہیں ہوسکتی اس کی خواہش کرنا فضول ہے۔
انسان ایک ایسا پرندہ ہے جوبے پر ہونے کے باوجود قوت پرواز رکھتا ہے۔
اچھی بات کو حاصل کرنے کے لئے بری بات کو ذریعہ و وسیلہ نہیں بنانا چاہئے۔
افراط نصیحت بھی موجب تہمت ہے۔
کسی نے پوچھا تو نے اتنا علم کیسے حاصل کیا؟ کہا رات کو جب لوگ مصروف نوشی ہوتے تھے، میں روغن زیتون کے ساتھ اپنا خون بھی جلاتا تھا۔
دوست کے ساتھ ایسا سلوک کر کہ حاکم تک نوبت نہ پہنچے اور دشمن سے اس طرح برتاؤ کر کہ اگر حاکم تک نوبت پہنچے تو کامیابی تجھے ہو۔
ہر ایک قوت کا ایک خاص عمل ہے اور ہر قوت کے اعتدال سے فضیلت پیدا ہوتی ہے۔
شاعری ہمیں صحیح علم نہیں دیتی اور انسان اخلاق کو کمال تک نہیں پہنچنے دیتی۔
برا آدمی اچھائی میں بھی برائی تلاش کرتا ہے۔ جیسے مکھی سارے جسم کو چھوڑ کر زخم ہی پر آکے بیٹھتی ہے۔
تکبر علم اور غصہ عقل کا دشمن ہے۔
دنیا کو چوروں کی کمین گاہ سمجھو اور چوکنے رہ کر زندگی بسر کرو۔
سخت کلام آگ کا وہ شعلہ ہے جو ہمیشہ کے لئے داغ چھوڑ جاتا ہے۔
وقت ایک ایسی زمین ہے جس میں بغیر محنت کے کچھ پیدا نہیں ہوتا۔ اگر محنت کی جائے تو زمین پھل دیتی ہے۔ اگر بیکار چھوڑ دی جائے تو اس میں خاردار جھاڑیاں اگ آتی ہیں۔
ہر شخص کچھ نہ کچھ عقل رکھتا ہے لیکن ہر شخص عقل سے کام لینا نہیں جانتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *