مسروق کہتے ہیں کہ کسی گاؤں میں ایک آدمی کے پاس تین جانور گدھا، کتا، اور مرغ تھے۔ مرغ اس آدمی کو صبح کی نماز کیلئے جگاتا۔ کتا اس کے گھر کا پہرہ دیتا ارو گدھے پر وہ آدمی پانی اور خیمہ وغیرہ لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا۔
پس ایک دن ایک لومڑی آئی اور اس کے مرغ کو پکڑ کر کھا گئی۔ پس اس آدمی کے اہل خانہ بہت غمگین ہوگئے، لیکن وہ آدمی بہت نیک تھا۔ پس اس آدمی نے کہا شاید اس میں ہمارے لئے بہتری ہو۔
پھر اس کے بعد ایک بھیڑیا آیا اور اس نے گدھے کو چیڑ پھاڑ کر قتل کر دیا۔ پس اس آدمی نے کہا، کہ شاید اس میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہمارے لئے بہتری ہو۔
پھر اس کے بعد کتا بھی بیمار ہو کر مر گیا۔ پس اس آدمی نے کہا شاید اللہ کی طرف سے اس میں ہمارے لئے کوئی بھلائی ہو۔
ایک دن ایسا ہوا کہ جب صبح سویرے وہ آدمی اور اس کے اہل خانہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے آس پاس کے تمام پڑوسیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پالتو جاتوروں کی آوازوں سے بادشاہ کو تکلیف ہوتی تھی۔
پس اس آدمی نے کہا کہ ان تینوں جانوروں کی ہلاکت میں اللہ تعالٰی کی یہ مصلحت کارفرما تھی کہ ہم گرفتاری سے بچ گئے۔ پس جو اللہ تعالٰی کے لطف و کرم کے اسرار کو سمجھتا ہے وہ اللہ تعالٰی کے ہر فعل پر راضی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *