علامہ قزوینیؒ نے ایک حکایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نے گبریلا ،سیاہ رنگ کا بدبودار کیڑا جس کی پیدائش زمین کی گندگی سے ہوتی ہے، دیکھا۔ پس اس آدمی نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے اس کو کس لئے پیدا کیا ہے۔ کیا اس کی خوبصورتی یا اس کی خوشبو اس کو تخلیق کرنے کی وجہ سے ہے؟
پس اللہ تعالٰی نے اس شخص کو ایک زخم میں مبتلا کر دیا۔ جو اس قدر شدید تھا کہ اطباء اس زخم کے علاج سے عاجز آگئے۔ یہاں تک کہ اس شخص نے زخم کا علاج چھوڑ دیا۔ پس ایک دن اس شخص نے ایک طبیب کی آواز سنی، جو گلیوں اور سڑکوں پر آواز لگاتا تھا۔ اور لوگوں کا علاج کرتا تھا۔ پس اس آدمی نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا، کہ اس طبیب کو بلاؤ اور میرا زخم دکھاؤ۔ گھر والوں نے کہا، کہ تم نے ماہر سے ماہر طبیب سے علاج کروایا لیکن شفا نہیں ملی۔ بھلا یہ سڑکوں پر آواز لگانے والا طبیب تمہارے لئے کیسے مفید ثابت ہوگا۔
پس اس آدمی نے کہا کہ اگر طبیب مجھے ایک نظر دیکھ لے تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ پس گھر والوں نے طبیب کو بلایا اور ان کا زخم دکھلایا۔ جب طبیب نے زخم دیکھا تو اس نے گھر والوں کو حکم دیا، کہ ایک گبریلا لاؤ۔ پس طبیب کی اس بات پر تمام گھر والے ہنس پڑے، اور کہنے لگے، کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ طبیب اس زخم کا علاج نہیں کر سکتا۔ مریض کو گبریلا کا نام سنتے ہی اپنا وہ قول یاد آگیا جو اس نے گبریلے کے متعلق کہا تھا۔ پس اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا، کہ طبیب صاحب جس چیز کا مطالبہ کررہے ہیں وہ ضرور لائی جائے۔ پس گھر والوں نے ایک گبریلا لا کر طبیب صاحب کے سامنے پیش کردیا۔
پس حکیم صاحب نے گبریلا کو جلایا اور اس کی راکھ مریض کے زم پر چھڑک دی۔ پس اللہ تعالٰی کے حکم سے مریض شفایاب ہوگیا۔ پس مریض نے حاضرین سے کہا، کہ اللہ تعالٰی اس آزمائش کے ذریعے مجھے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ اس کی حقیر سے حقیر مخلوق بھی بڑی سے بڑی دوا کے طور پر کام آسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *