قاضی امام شمس الدین احمد بن خلکان نے وفیات الاعیان میں عمادالدولہ ابوالحسن علی بن بویہ کے حالات میں لکھا ہے، کہ ان کے والد مچھلی کا شکار کر تھے تھے اور ان کا ذریعہ معاش ہی شکار تھا۔ ان کے تین لڑکے تھے سب سے بڑے عمادالدولہ ان سے چھوٹے رکن الدولہ اور سب سے چھوٹے معزالدولہ تھے۔
یہ تینوں لڑکے بادشاہ ہوئے ہیں۔ اورعمادالدولہ ان دونوں کی خوشحالی اور شہرت کا سبب بنے۔ عمادالدولہ کی مملکت میں عراق عرب و عجم اور اہواز اور فارس وغیرہ شامل تھے۔
عماد الدولہ کو ایک عجیب اتفاق پیش آیا۔ کہ جب شیرازان ان کے قبضہ میں آیا تو ان کے رفقاء ان کے پاس آ کر جمع ہوئے اور ان سے مال طلب کیا۔
عمادالدولہ کے پاس اس وقت اتنا مال نہیں تھا کہ اس کو دیکر ان کو راضی کر لیتے۔ چنانچہ اس فکر کی وجہ سے عمادالدولہ کی ہمت پست ہوگئی۔
چنانچہ عمادالدولہ فکر میں مبتلا اٹھ کر کر ایک دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ اور کوئی تدبیر سوچنے لگے۔ لیکن جو کوئی تدبیران کے ذہن میں نہیں آئی تو پھر واپس اپنے مصاحبوں کے پاس آگئے۔
چنانچہ اسی طرح کئی دن گزر گئے۔ لیکن رفقاء مال کیلئے تقاضا کرنے لگے۔ پس عمادالدولہ پھر اسی کمرے میں آ کر لیٹ گئے اور کوئی تدبیر سوچنے لگے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی۔ کہ اچلگی ہوئی ہے۔ فراشوں نے عمادالدولہ کو اس کی خبر دی۔ عمادالدولہ نے اس کھڑکی کو کھولنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب اس کھڑکی کو کھولا گیا، تو اس کے اندر صندوق رکھے ہوئے تھے۔ عمادالدولہ نے صندوقوں کو کو کھولنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب ان صندوقوں کو کھولا گیا تو ان کے اندر سے پانچ لاکھ دینار کی رقم برآمد ہوئی۔ جو عمادالدولہ کے سامنے پیش کی گئی۔ پس عمادالدولہ بہت خوش ہوئے۔ اور انہوں نے یہ رقم اپنے رفقاء میں تقسیم کردی۔
پس اللہ تعالی نے عمادالدولہ کے بگڑے کام کو پھر بنا دیا۔ ان صندوقوں میں ان دیناروں کے علاوہ عمدہ قسم کے کافی تعداد میں کپڑوں کے تھان بھی بھرے ہوئے تھے۔ پھراس کے بعد جب عماد الدولہ نے ان کپڑوں کوجو صندوقوں سے برآمد ہوئے تھے پہننے کے کپڑے سلوانے کے لیے ایک ماہر درزی کی تلاش شروع کی تو لوگوں نے کہا کہ جو درزی سابق بادشاہ کے کپڑے سیتا تھا اسے اچھا اور کوئی درزی یہاں نہیں ہے۔ عمادالدولہ نے درزی کو حاضر کرنے کا حکم دیا جو کہ شہر میں کہیں مقیم تھا۔ یہ درزی بہرہ تھا۔ اور اس کے پاس سابق بادشاہ کی کچھ امانت بھی موجود تھی ۔ جب عمادالدولہ نے درزی کو بلایا تو درزی نے سمجھا کہ شاید کسی چغل خور نے عمادالدولہ کو شکایت کر دی ہے اور بادشاہ کو اس کا علم ہوگیا ہے۔
جب درزی کو عمادالدولہ کے پاس حاضر کیا گیا، تو عمادالدولہ نے درزی کو کپڑے ناپنے کا حکم دیا۔ درزی بہرہ ہونے کی وجہ سے عمادالدولہ کی بات سمجھ نہ سکا۔ اور اس نے فورا کہا کہ خدا کی قسم؛ میرے پاس بارہ صندوقوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ ان صندوقوں میں کیا چیزیں ہیں۔
عمادالدولہ درزی کے جواب سے حیران ہوئے۔ اور اپنے چند آدمیوں کو کو درزی کے ساتھ بھیج دیا اور کہا کہ وہ صندوق اٹھا لاؤ۔ درزی نے گھر جاکر صندوقوں کو ان آدمیوں کے حوالے کردیا۔ ان آدمیوں نے وہ صندوقیں عمادالدولہ کے پاس لا کر رکھ دئیے۔ عمادالدولہ نے اس کو کھولنے کا حکم دیا۔ جب صندوقوں کو کھولا گیا۔ تو ان میں قسم قسم کے قیمتی کپڑے تھے۔ یہ عمادالدولہ کی سعادت مند ہونے کی علامت ہے۔

2 thoughts on “اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ایک عجیب و غریب واقعہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *