قشیری نے اپنے رسالہ کے شروع میں بنان الجمل کا حال لکھا ہے کہ ایک عظیم الشان صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ کو ایک مرتبہ کسی درندے کے سامنے ڈال دیا گیا۔ درندے نے آپ کو سونگھنا شروع کر دیا، اور کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ جب وہ درندہ واپس چلا گیا تو لوگوں نے آپ سے دریافت کیا، کہ جس وقت وہ درندہ آپ کو سونگھ رہا تھا، اس وقت آپ کی کیا حالت ہو رہی تھی؟ آپ نے فرمایا، کہ اس وقت میں علماء کا درندوں کے ،سورالسبع، یعنی جھوٹے پانی، میں جو اختلاف ہے اس پر غور کر رہا تھا۔
کہتے ہیں کہ سفیان ثوری شیبان الراعیؒ ساتھ حج کرنے چلے۔ راستہ میں ان کو کسی جگہ پر ایک درندہ مل گیا۔ حضرت سفیان اس کو دیکھ کر حضرت شیبان سے کہنے لگے، کہ کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ سامنے یہ درندہ کھڑا ہے۔ شیبانؒ نے فرمایا، آپ ڈریئے نہیں۔ اس کے بعد شیبانؒ اس درندہ کے پاس جا کر اس کا کان پکڑ کر اس پر سوار ہو گئے، اور وہ دُم ہلانے لگا۔ حضرت سفیان نے کہا، کہ یہ کیا شہرت کی باتیں کر رہے ہو؟ آپ نے جواب دیا، کہ اگر شہرت کا خوف نہ ہوتا، تو میں اپنے تمام اسباب کو لاد کر مکۃ المکرمہ تک لے جاتا۔
حافظ ابو نعیم حلیہ میں لکھتے ہیں کہ شیبانؒ الراعی کو جب غسل جنابت کی حاجت ہوتی اور آپ کے پاس پانی نہ ہوتا، تو آپ حق تعالٰی سے دعا کرتے۔ چناچنہ بادل کا ٹکڑا آکر آپ پر برستا، اور آپ غسل فرماتے۔ جب فارغ ہو جاتے تو بادل چلا جاتا۔ جب آپ جمعہ کی نماز پڑھنے جاتے، تو بکریوں کے اردگرد ایک خط کھینچ کر جاتے۔ اور جب نماز پڑھکر واپس آتے تو بکریوں کو اس خط کے اندر پاتے۔
امام ابوالفرجؒ ابن الجوزی وغیرہ نے ذکر کیا ہے، کہ ایک مرتبہ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ بن حمبل شیبانؒ الراعی کے پاس سے گزرے۔ امام احمد فرمانے لگے کہ اس راعی سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں، امام شافعیؒ بولے، جانے بھی دو۔ امام احمدؒ بن حمبل نے کہا، کہ میں ضرور پوچھ کر رہوں گا۔ چنانچہ دونوں صاحبان ان کے پاس پہنچے۔ امام احمدؒ بن حمبل نے ان سے سوال کیا۔ کہ اس مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے، کہ اگر کسی شخص نے چار رکعت نماز کی نیت باندھی، تین رکعت پوری پڑھ لی، چوتھی رکعت میں سجدہ کرنا بھول گیا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ شیبانؒ نے پوچھا؟ آپ کے مذھب کے مطابق جواب دوں یا اپنے مسلک کے مطابق؟ اس پر حضرت امام احمدؒ بن حمبل بولے کہ کیا مذھب بھی دو دو ہیں؟ شیبانؒ نے کہا، ہاں میرا مذھب اور ہے، اور آپ کا مذھب دوسرا۔ آپ کے مذھب کی رو سے اس کو دو رکعت اور پڑھ کر سجدہ سہو کر لینا چاہیئے۔ اور میرے مذھب کا حکم یہ کہ چونکہ اس شخص کا دل بنا ہوا ہے، لہٰذا اس کو چاہیئے کہ وہ پہلے اپنے قلب کو خوب تکلیف پہنچائے، تاکہ وہ آیندہ ایسا نہ کرے۔
اس کے بعد امام موصوف نے دوسرا سوال کیا کہ ایک شخص کی ملکیت میں چالیس بکریاں ہیں، اور ان پر ایک سال گزر چکا ہے، تو اس پر کس قدر زکوٰۃ واجب ہے؟ شیبانؒ نے جواب دیا، کہ آپ کے مذھب میں ایک بکری واجب ہے۔ اور ہمارے مذھب میں مولا کے ہوتے ہوئے بندہ کسی چیز کا مالک نہیں۔ لہٰذا اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔ یہ جواب سن کر امام احمدؒ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ ہوش آنے کے بعد وہ دونوں امام صاحبانؒ ان سے رخصت ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *