ایسی مائیں کہاں ہیں ؟

آج ہی کوئی ماں جو کہے کہ میں بچے کا یقین اللہ کے ساتھ بناتی ہوں ؟ ہے کوئی ماں جو کہے میں تو صبح شام کھانا کھلاتے ہوئے اپنے بچے ترغیب دیتی ہوں کہ ہر حال میں سچ بولنا ہے؟ ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی ۔ باپ ذرا سی نصیحت کر دے تو ماں فورا کہتی ہے بڑا ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گا حالانکہ بچپن کی بری عادتیں بعد میں نہیں چھوڑتیں ۔ آج تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اولاد جب بڑی ہوتی ہے تو وہ اپنے باپ سے کیوں نفرت کرتی ہے جیسے پاپ سے نفرت کی جاتی ہے۔
ایک وقت تھا کہ عورت صبح کی نماز پڑھا کرتی تھی اور بچوں کو اپنی گود میں لے کر کبھی سورہ یسین پڑھ رہی ہوتی تھی کبھی سوره واقعہ پڑھ رہی ہوتی تھی اس وقت کے کے دل میں انوارات اتر رہے تھے آج وہ مائیں کہاں گئیں جو صبح کے وقت بچے کو گود میں لے کر قرآن پڑھا کرتی تھیں؟ آج تو سورج نکل جاتا ہے مگر بچہ بھی سویا ہوا ہوتا ہے، ماں بھی سوئی ہوئی ہوتی ہے ۔ شام کا وقت ہوتا ہے، بچے کو ماں نے گود میں ڈالا ادھر سینے سے لگا کر دودھ پلا رہی ہے ساتھ ہی بیٹھی ٹی وی پر ڈرامہ دیکھ رہی ہے۔ اے ماں ! جب تو ڈرامے میں غیرمحرم کو دیکھے گی موسیقی سنے گی اور غلط کام کرے گی اور ایسی حالت میں بیٹے کو دودھ پلائے گی تو بتا تیرا بیٹا بغدادی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کیسے بنے گا؟ بتا کہ تیرا بیٹا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کیسے بنے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *