ایک ایسی دُعا جس کے پڑھنے سے زہر بھی اثر نہ کر سکا۔ حضرت خالد بن ولید کا قصہ

ابن ظفر کی کتاب ،النصایح، میں ایک واقعہ مذکور ہے، کہ جب اہل حیراہ اپنے ،قصرابیض، میں محصور ہو گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہُ نے نجف میں قیام فرمایا اور اہل نجف کو پیغام بھیجا کہ اپنے سرداروں میں سے کسی سردار کو میرے پاس مصالحت کے لئے بھیج دو۔ پس انہوں نے عبدالمسیح بن عمرو بن قیس بن حیان بن نفیلہ عنانی کو بھیجا۔ یہ سردار بہت بوڑھا تھا۔ اور اس کی عمر ساڑھے تین سو سال تھی۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہُ نے اس بوڑھے سے گفتگو فرمائی جو بہت مشہور ہے۔ چنانچہ اس بوڑھے کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی، جس کی طرف بوڑھا بار بار دیکھتا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہُ نے فرمایا، کہ تم بار بار اس شیسی کی طرف کیوں دیکھتے ہو؟ بوڑھے نے کہا، کہ اس شیشی میں ایسا زہر ہے جو کھانے والے کو ایک ساعت میں ہلاک کر دیتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کا کیا کرو گے؟ اس بوڑھے نے کہا، کہ اگر آپ کی اس گفتگو کا نتیجہ میری قوم کے حق میں فائدہ مند نکلا تو میں اس پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کروں گا، اور میں آپ کی شرائط کو قبول کروں گا، اور اگر نتیجہ اس کے برعکس ہوا، تو اس زہر کے ذریعے خود کشی کرلوں گا۔ کیونکہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں، کہ میں اپنی قوم کے پاس بری خبر لے کر جاؤں۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کہ یہ شیسشی مجھے دے دو۔ پس اس نے شیشی دے دی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے شیشی سے زہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیا۔ اور یہ دعا پڑھ کر،،بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ،، اس زہر کو پی لیا۔ کہا جاتا ہے، کہ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پانی پیا، اور ٹھوڑی کو اپنے سینہ پر مارا، جس سے آپ کو بہت زیادہ پسینہ آیا، اور زہر کا اثر زائل ہوگیا۔
پس عبدالمسیح اپنی قوم کی طرف گیا اور کہا، کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آرہا ہوں، جس نے ،سم ساعت، پی لیا، لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پس تم اسے دے دو جس کا وہ تم سے سوال کرتا ہے، اور اس کو اپنی زمین سے خوش کر کے واپس بھیجو، کیونکہ یہ قوم ایسی ہے، جس میں صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے۔ اور عنقریب اس قوم کی شان بلند ہوگی۔ چنانچہ اہل حیرہ نے چاندی کے دس ہزار درہم کے بدلے مسلمانوں سے صلح کر لی۔ بعض ماہرین حیوانات کہتے ہیں، کہ سم ساعت ٖصرف ہندی سانپ ہوتا ہے اور اس کے زہریلے اثر کو نہ کوئی تریاق ختم کر سکتا ہے، اور نہ کوئی دوا اس کے اثر کو دور کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *