کتاب النصایح میں ہے کہ ایک سیاح ہراس خوفناک چیز کے پاس بے خطر چلا جاتا تھا جس سے عموماَ مسافر ڈرا کرتے تھے۔ اور سانپ بچوؤں سے بالکل اپنی حفاظت نہیں کرتا تھا۔ نہ درندوں سے ڈرتا تھا۔ لوگوں کواس عمل سے تعجب ہوا ور انہوں نے اُسے ڈرایا کہ خود فریبی میں مبتلا نہ ہو کہیں کوئی خطرہ پیش آ سکتا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے اپنے معاملہ میں بصیرت اور تجربہ حاصل ہے اور دراصل قصہ کچھ یوں ہے۔

کہ ایک مرتبہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ سوداگر بن کر تجارت کے سفر میں نکلا ایک جگہ دیہاتی لٹیرے رات کو ہمارے ارد گرد چکر لگایا کرتےاور وہ اس تاک میں لگے ہوئے تھے۔ میں اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ جاگتا تھا اور کثرت سے ذکرکیا کرتا تھا۔ میں ایک دیہاتی شخص کے ساتھ جاگ کر پہرہ دے رہا تھا۔ جس کا نام صلاح الدین تھا۔ جب اس نے میری یہ حالت دیکھی تو اس نے مجھے کہا کہ حضورؐ پر سو مرتبہ درود پڑھ کر اطمینان سے سو جاؤ۔ میں اسی طرح پڑھ کر سو گیا۔ اچنانک ایک شخص مجھے جگانے لگا۔ میں گھبرا گیا۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ مجھ پر رحم کرو اور میری غلطی معاف کرو۔ میں نے کہا کیا ہوا؟

کہنے لگا کہ میرا ہاتھ تمھارے سامان سے چپک گیا ہے۔ میں نے جب غور سے دیکھا تو دیھکا کہ اس چور نے وہ گٹھری پھاڑ رکھی تھی جس پر میں سو رہا تھا۔ اور اس میں ہاتھ ڈال کر کپڑے نکالنا چاھتا تھا۔ مگر اپنا ہاتھ نکال نہ سکا۔ میں نے اپنے سردار کو جگایا اوراسے صورت حال سے خبردار کیا۔ پھر اس سے درخواست کی کہ آپ اس کے لیے دُعا کر دیں۔ اس نے کہا کہ تو اس سلسلے میں دعا کرنے کے زیادہ حق دار ہو کیونکہ تمھاری ہی وجہ سے یہ اس مصیبت میں پھنسا ہے۔ چنانچہ میں نے دعا کی اور اسے اس سے نجات مل گئی اوراس آدمی کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ میری نظروں میں آج بھی وہ ہاتھ ہے، جس میں دبنے کی وجہ سے خون کی سیاہی جھلک رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *