جعفر صادق بن محمد باقر سے مروی ہے۔ کہ بنی اسرائیل میں ایک دیندارآدمی تھا۔ جس کا معاملہ اللہ تعالی کے ساتھ اچھا تھا اور اس کی ایک بیوی تھی جو نہایت حسین وجمیل تھی۔ اس آدمی کو کسی وجہ سے اس پر بدگمانی ہو گئی تھی۔
چنانچہ جب کھبی یہ آدمی باہر کسی کام سے جاتا تو اپنے گھر کے دروازے کو باہر سے تالا لگا دیتا تھا۔
ایک دن اس کی بیوی نے ایک نوجوان مرد کو دیکھا۔ اور اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ اور وہ نوجوان مرد بھی اس عورت کا گرویدہ ہو گیا۔ پس عورت نے کسی طرح باہر کے تالے کی ایک چابی بنوالی اور اس نوجوان کو بھجوا دی۔
پس وہ نوجوان دن اور رات میں جب بھی چاہتا، اس عورت کے پاس آ جاتا اور اس عورت سے ہم صحبت رہتا۔
چنانچہ اس عورت کا شوہر عرصہ دراز تک اس آمد و رفت سے بے خبر رہا۔ اس عورت کا شوہر ایک عابد و زاہد شخص تھا۔ اس لیے اس نے محسوس کیا کے اس کی عورت اس سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے اس کا اظہار کیا۔ اور اسے کہا کہ میں تب بی مطمئن ہو سکتا ہوں۔ کہ تم اپنی عفت و عظمت پر قسم اٹھاؤ۔ اس عورت نے کہا کہ جب بھی آپ مناسب سمجھیں مجھ سے خلف لے لیں۔
چنانچہ جس شہر کا یہ واقعہ ہے۔ اس کے باہر ایک پہاڑ تھا اور اس کے قریب ایک نہر بہتی تھی، وہاں جا کر بنی اسرائیل قسم اٹھایا کرتے تھے۔ اور جو شخص وہاں پر جا کر جھوٹی قسم اٹھاتا تو وہ فوراً ہلاک ہو جاتا۔
پس جب وہ عابد و زاہد آدمی اپنے کسی کام سے باہر نکلا تو اس کی بیوی کے پاس وہ جوان آدمی آیا۔ پس اس عورت نے اپنے آشنا کو اس واقعے کی خبر دی کہ میرا شوہر مجھ سے قسم کا مطالبہ کرتا ہے. پس نوجوان آدمی پریشان ہوگیا اور اس نے کہا کہ اب تم کیا کرو گی؟
پس عورت نے کہا کہ فلاں دن فلاں وقت میں اپنے شوہر کے ساتھ قسم کھانے کے لئے اس پہاڑ پر جاؤنگی لہذا تم بھیس بدل کر اور سواری کا ایک گدھا لے کر شہر کے باہر پھاٹک پر کھڑے ہو جاؤ اور جب تم ہمیں دیکھو تو گدھے کو لے کر ہمارے قریب آجانا۔ پس جب میں تمھارے گدھے پر پہاڑ تک جانے کے لیے سوار ہونے کا ارادہ کروں تو تم جلدی سے مجھے اٹھا کر گدھے پر سوار کرا دینا۔
پس جب اس عورت کا شوہر آیا، تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ چلو اس پہاڑ پر تاکہ تم وعدے کے مطابق قسم اٹھا کر مجھے مطمئن کر سکو۔ پس عورت نے کہا میں پیدل پہاڑ تک جانے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ اس دیندار آدمی نے کہا کہ تم نکلو اگر شہر کے پھاٹک پر کوئی گدھے والا کھڑا ہوگا تو اس کا گدھا کرایہ پر لے لینگے۔ پس وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے لباس بھی تبدیل نہیں کیا۔ پس جب وہ دیندار آدمی اور اس کی بیوی گھر سے باہر نکلے تو اس عورت نے نوجوان مرد کو دیکھ لیا جو اس کا انتظار کر رہا تھا اس عورت نے اس نوجوان کو آواز دی کہ او گدھے والے ہم تجھے نصف درہم دیں گے کیا تو ہمیں اس پہاڑ تک پہنچا دے گا؟ اس نے کہا جی ہاں! پھر وہ گدھا لے کر آیا اورعورت کواپنے ہاتھوں کا سہارہ دیکرگدھے پر بٹھا دیا۔
پس وہ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ پہاڑ کے قریب پہنچ گئے۔ عورت نے اس نوجوان مرد سے کہا کہ مجھے گدھے سے اتارو۔ جب وہ نوجوان اس کے قریب پہنچا تو اس عورت نے اپنے آپ کو زمین پر گرا دیا۔ یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی۔ عورت نوجوان کو گالیاں دینے لگی۔ پس اس نوجوان نے کہا اللہ کی قسم! میرا اس میں قصور نہیں ہے۔ پھر اس نوجوان نے اس عورت کو ہاتھوں سے اٹھا کر کھڑا کر دیا۔ پھر اس کے بعد وہ پہاڑ پر چڑھے اور جب اس مقام پر پہنچے جہاں قسم کھائی جاتی تھی۔ عورت نے اپنے ہاتھ سے پہاڑ کو پکڑ لیا۔ اور شوہر کی جانب مخاطب ہو کر قسم کھانے لگی، کہ جب سےمیں اور تم رشتہ زوجیت میں منسلک ہوئے ہیں، تب سے آج تک مجھے سوائے آپ کے اور اس گدھے والے کے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، اور نہ ہی کوئی میری طرف متوجہ ہوا۔ پس وہ پہاڑ زور زور سے ہلنے لگا۔ یہاں تک کہ پہاڑ زمین میں دھنس گیا۔
اور بنی اسرائیل اس واقعے کو بھول گئے۔ اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا ہے
“اگر چہ ان کافرین و مشرکین کی چالیں ایسی تھیں جن سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *