کتاب نزہۃ الابصاری اخبار ملوک الامصار میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کسی لڑکے کے پاس سے گزرا جو ایک سست رو اور میلے کچیلے گدھے کو ہانکے لئےجا رہا تھا ۔ اور بار بار اس کو سختی سے چلا رہا تھا تو بادشاہ نے اس سے کہا اے لڑکے اس کے ساتھ نرمی کرو ۔ تو لڑکے نے کہا اے بادشاہ نرمی میں اس کا نقصان ہے ۔ بادشاہ نے کہا کیسے ؟

اس نے کہا اس طریقے سے اس کا راستہ لمبا ہو جائے گا اور اس کی بھوک بڑھ جائے گی ۔ اور اس پر سختی کرنا اس کے اوپر نیکی ہے ۔

اس نے پوچھا کیسے؟

اس نے کہا اس کا بوجھ جلدی اتر جائے گا اور اس کے کھانے کے لئے زیادہ وقت نکل آئے گا تو بادشاہ کو اس کی بات بڑی پسند آئی اور کہا میں تیرے لئے ایک ہزار درہم مقرر کرتا ہوں ۔ اس نے کہا یہ اللہ کا مقدر کیا ہوا میرا رزق ہے اور میں بخشنے والی کی قدر کرتا ہوں ۔

بادشاہ نے کہا آج سے تیرا نام میں نے اپنے ہم مجلسوں میں لکھ لیا ہے اس نے کہا مشقت کم ہو جائے گی اور میرے رزق میں میری امداد ہو جائے گی بادشاہ نے کہا مجھے کوئی نصیحت کرو کیونکہ تو مجھے دانا آدمی دکھائی دیتا ہے تو لڑکے نے کہا ۔ اے بادشاہ جب آپ سلامت ہوں تو ہلاکت کو یاد رکھیں ۔ جب آپ کو عافیت خشگوار لگے تو اپنے دل میں مصیبت کو تازہ  کریں ۔ اور جب آپ کو مطمئن کردے تو خوف کو محسوس کریں اور جب آپ کام کی انتہا کو پہنچ جائیں تو موت یاد کریں ۔ اور جب آپ کی اپنی جان پیاری لگے تو اس کو کسی برائی میں حصہ دار نہ بنائیں ۔

بادشاہ کو اس کی بات بڑی پسند آئی اور کہا کہ اگر آپ نو عمر نہ ہوتے تو میں آپ کو وزیر بنا لیتا ۔ اس نے کہا جس شخص کو عقل دی گئی ہے اس کی عزت کم نہیں ہوتی ۔ بادشاہ نے کہا کیا تجھ میں وزیر بننے کی صلاحیت ہے ؟ اس نےکہا تعرف اور برائی تجربہ کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے ۔ اور کوئی آدمی اپنے نفس کو اسی وقت پہچان سکتا ہے جب وہ اس کو آزما کر دیکھ لے ۔ تو بادشاہ نے اس کو وزیر بنالیا پھر اس بادشاہ نے واقعی اس لڑکے کو صائب اسرائے سلیم العقل روشن دماغ اور درست مشوروں والا پایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *