مؤرخین نے لکھا ہے کہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ( بتوں کے یہ نام سورۃ نوح میں ہیں ) نوح علیہ السلام کی اولاد کے نام ہیں یا آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان گزرے ہوئے نیک لوگوں کے نام ہیں، جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوا تو لوگوں کو بڑا دکھ ہوا، شیطان نے انہیں مشورہ دیا کہ بطور یادگار مجسمہ بنا لیا جائے چنانچہ انہوں نے مجسمہ بنالیا پھر مرور زمانہ کے بعد پرستش اور عبادت بھی شروع ہوگئی، ود ( بت ) کا مجسمہ مرد کی شکل میں تھا، سواع خاتون کی شکل میں، یغوث شیر کی شکل میں، یغوق گھوڑے کی شکل میں اور نسر نسر کی شکل میں بنایا گیا تھا، پتھروں کی عبادت یوں شروع ہوئی کہ جب لوگوں کو سفر میں پریشانی ہونے لگی تو بطورِ تبرک حرم کے پتھر ساتھ رکھنے لگے جس سے ان کے گمان کے مطابق پریشانی نہیں ہوتی تھی، بعد میں عام پتھر بھی رکھنے لگے جو بعد میں مستقل بت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ غزی ( بت ) قریش و بنی کنانہ کا، لات طائف میں بنی ثقیف کا اور منات اوس و خزرج کا تھا۔ ( قلیوبی ص 283 )
نوح علیہ السلام کا پڑ پوتا عاد بن ادم ایک شخص تھا اس کی نسل سے ایک قوم پیدا ہوئی جس کو عاد اولی کہتے ہیں، نوح علیہ السلام سے اس قوم تک مسلسل خالص دین قائم رہا، اس کے بعد یہ رواج پڑ گیا کہ جو نیک اور بزرگ آدمی مرتا تھا تو یہ لوگ ( عاد اولی کے لوگ ) اس کی شکل، مجسمہ بطور یادگار تیار کرا لیتے تھے آخر بعد میں یہی چیز بت پرستی میں تبدیل ہو گئی (ہدایت نما متوسط قرآن مترجم)
عرب میں بت پرستی کی ابتداء عمرو بن لحی بن حارثہ بن عمرو ابن مزیقیا ازدی کی وجہ سے ہوئی، وہ ایک دفعہ ( بعثت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تین سو سال قبل ) ملک شام میں گیا اور لوگوں کو بت پرستی کرتے ہوئے پایا چنانچہ اس نے وہاں سے ہبل نامی بت لایا اور کعبہ کے اندر رکھ دیا، یوں عرب میں بھی بت پرستی کا آغاز ہو گیا۔ ( الفور الکبیر صفحہ 21 ) خانہ کعبہ کے اندر 360 بت تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *