مؤرخین اور اصحاب سیر نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے عہد میں بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا واقعہ لکھا ہے، کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے میں ایک اسحاق نامی شخص تھا۔ اس کی ایک چچا زاد بہن تھی جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔
چنانچہ وہ آدمی اپنی چچازاد بہن کا عاشق ہوگیا اور اس سے شادی کر لی۔ پس کچھ دنوں کے بعد وہ لڑگی مر گئی۔ وہ آدمی اس لڑکی کی قبر سے چمٹ گیا اور رونے لگا، یہاں تک کہ ایک مدت گزر گئی۔
ایک دن وہاں سے حضرت عیسٰی کا گزر ہوا تو وہ آدمی اس لڑکی کی قبر پر رو رہا تھا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس سے فرمایا “اے اسحاق! کس چیز نے تجھے رُلایا ہے؟” پس اس آدمی نے کہا، اے روح اللہ! میری ایک چچا زادبہن تھی جس سے میں نے شادی کر لی تھی اور میں اس سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا تو وہ لڑکی ہو ہلاک ہوگئی ہے۔ اور یہ اس کی قبر ہے اور میں اس کی جدائی پر صبر نہیں کر سکتا۔ تحقیق اس کی جدائی نے مجھے قتل کر دیا ہے۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا، کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں اللہ کے حکم سے اسے زندہ کردوں؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ جی ہاں! اے روح اللہ! پس حضرت عیسٰیؑ اس قبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا “اے صاحب قبر! اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا” پس قبر پھٹ گئی اور اس سے ایک حبشی غلام جس کی آنکھ اور منہ سے آگ نکل رہی تھی “ لا الٰہ الا اللہ عیسٰی روح اللہ و کلمتہ وعبدہ و رسولہ” کہتا ہوا نکلا۔ پس اسحاق نے کہا ” اے روح اللہ! یہ میری بیوی کی قبر نہیں بلکہ وہ فلاں جگہ ہے” اس نے دوسری قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
پس حضرت عیسٰیؑ نے حبشی سے کہا کہ ” تم اس طرف لوٹ جاؤ جہاں تم تھے”۔ پس وہ مردہ ہو کر گر پڑا۔ آپؑ دوسری قبر پر آئے اور فرمایا کہ ” اے صاحب قبر! اللہ کے حکم سے کھڑا ہوجا” پس ایک عورت اپنے بدن سے مٹی جھاڑتی ہوئی کھڑی ہوئی۔ حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا، ” اس کا ہاتھ پکڑ لے اور اسے لے جا” پس وہ شخص اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہارے فراق میں مسلسل جاگتا رہا ہوں اب میرا جی چاہتا ہے کہ کچھ دیر آرام کرلوں ۔ اس کی بیوی نے کہا، کہ ٹھیک ہے ” آرام کرلو” وہ شخض اس لڑکی کی ران پر سر رکھ کر سو گیا۔
اس آدمی کے سونے کے دوران لڑکی کے پاس سے ابن الملک گزرا جو حسن وجمال میں اپنی مثال آپ تھا۔ جب لڑکی نے اس کو دیکھا تو وہ اس پر عاشق ہوگئی۔ اور جب ابن الملک نے لڑکی کو دیکھا تو وہ بھی اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ لڑکی نے اس نوجوان سے کہا کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ پس اس نوجوان نے لڑکی کو اپنے بہترین گھوڑے پر سوار کرلیا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
جب لڑکی کا خاوند اسحاق بیدار ہوا تو اپنی بیوی کو نہ پا کر بہت پریشان ہو گیا۔ اس کی تلاش کیلئے نکلا اور گھوڑے کے آثار قدیم دیکھ کر ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ اسحاق نے ان دونوں کو تلاش کر لیا۔ اور ابن الملک سے کہا کہ ” تم میری بیوی میرے حوالے کردو کیونکہ یہ میری بیوی ہی نہیں، میرے چچا کی لڑکی بھی ہے”۔ پس لڑکی نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ “میں ابن الملک کی لونڈی ہوں” ۔ اسحاق نے کہا، کہ تو میری بیوی ہے اور میری چچازاد بہن ہے۔ لڑکی نے کہا کہ “میں تجھے نہیں جانتی میں ابن الملک کی لونڈی ہوں” ۔
ابن الملک نے اسحاق سے کہا، کہ کیا تو میری لونڈی سے جھگڑنا چاہتا ہے؟ پس اسحاق نے کہا کہ “اللہ کی قسم! یہ میری بیوی ہے جس کو حضرت عیسٰی علیہ السلام بن مریم نے اللہ کے حکم سے زندہ کیا ہے۔
یہ دونوں فریق آپس میں جھگڑ رہے تھے کہ حضرت عیسٰی ؑ تشریف لائے، اور فرمایا”اے اسحاق! یہ تیری بیوی ہے، جس کو میں نے اللہ تعالٰی کے حکم سے زندہ کیا تھا”۔ لڑکی نے جواب دیا “اللہ کی قسم! اے روح اللہ! آپ نے مجھے زندہ نہیں کیا”۔ حضرت عیسٰیؑ نے لڑکی سے فرمایاکہ “جو میں نے تجھے کیا تھا، وہ مجھے لوٹا دے” پس وہ لڑکی مردہ ہو کر گر پڑی۔
پس حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا ” جو شخص یہ چاہے ہے کہ و ایسے آدمی کو دیکھے جسے حالت کفر میں موت آئی پھر اللہ نے اس کو زندہ کر کے حالت ایمان میں اُٹھایا ہو تو وہ اس حبشی کو دیکھ لے، اور جو اس کو دیکھنا چاہے جسے حالتِ ایمان پر موت نصیب ہوئی پھر اس کو اللہ تعالٰی نے زندہ کیا ہو لیکن پھر اس کو حالتِ کفر میں اُٹھالیا ہو تو وہ اس لڑکی کو دیکھ لے۔
پس اسحاق اسرائیلی نے اللہ تعالٰی سے عہد کیا کہ وہ کبھی بھی شادی نہیں کرے گا۔
اس حکایت میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ ہم اللہ تعالٰی سے ایمان کی سلامتی اور اچھے خاتمہ کا سوال کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *