مدینہ میں ایک جوان تمام نمازوں میں حضرت عمر رضی  اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوتا تھا ۔ جب یہ شخص غائب ہوتا تہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کہ تلاش کرتے تھے کہتے ہیں مدینہ طیبہ کی ایک عورت اس پر عاشق ہوگئی اس نے اپنی کسی عورت سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا کیا میں تیرے اس جوان کو تمہارے پاس لے آنے کا کوئی حیلہ نہ کروں؟ اس نے کہاکیوں نہں ۔ چنانچہ وہ عورت نوجوان کے راستہ پر بیٹھ گئی جب وہ پاس سے گزرا تو عورت نے کہا میں بوڑھی ہوں میری ایک بکری ہے میں اس کو دوہ نہیں سکتی تم ثواب کماؤ اور اندر چل کر کر مجھے دودھ دوہ دو ؟ جب وہ جوان داخل ہوا تو وہاں اس کو کوئی  بکری نظر نہ آئی  تو بڑھیا نے کہا تم گھر میں بییٹھو میں بکری کو ابھی لاتی ہوں جب وہ اندر داخل ہوا تو وہاں دروازے کے پیچھے ایک عورت کھڑی تھی اس نے پیچھے سے دروازے بند کردیئے ۔ جب جوان نے یہ دیکھا تو گھر میں محراب کی جگہ میں جاکر بیٹھ گیا ۔ عورت نے اس سے گناہ کاتقاضہ کیا مگر جوان نے انکار کیا اور اور کہا اے عورت اللہ سے ڈرو پھر بھی عورت باز نہ آئی اور اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہوئی جب اس نے پکا انکار کردیا تو عورت نے چلانا شروع کردیا تو لوگ جمع ہوگئے اور اس کو مار مار کر باندھ دیا ۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھی تو اس جوان کو نہ پایا ابھی وہ اسی کی فکر میں تھے کہ لوگ اس کو باندھ کر آپ کے پاس لائے جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو(اس حالت میں) دیکھا توکہا اے اللہ میرا درست گمان اس کے حق میں غلط نہ کرنا ۔
پھر ان سے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے ۔ (اس کو کیوں باندھ کر لائے ہو) انہوں نے بتایا کہ ایک عورت نے رات کے وقت فریاد کی جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس جوان کو اس کے پاس دیکھا تو ہم نے اس کو مارا بھی اور باندھا بھی ہے ۔
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس جوان سے فرمایا تم مجھ سے اپنی بات درست درست بیان کردو تو اس نے اپنا قصہ بیان کیا کہ اس کو بڑھیا کیا کہہ کر لے گئی تھی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تم اس بڑھیا کو جانتے ہو ؟ عرض کیا اگر وہ سامنے آجائے تو جان لوں گا ۔
تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس کی پڑوسیوں کی طرف حکم روانہ کیا جب وہ آگئیں تو ان کو اس کے سامنے پیش کیا وہ جوان اسی کو نہیں پہچان رہاتھا حتیٰ کہ وہ بڑھیا پاس سے گزرنے لگی جوان نے پکارکر کہا یہی بڑھیا ہے۔
اے امیر المومنین! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اپنا درہ اٹھا کر فرمایا میرے سامنے سچ سچ بول دو اس نے تمام قصہ اسی طرح سے سنایا جس طرح سے نوجوان نے سنایا ۔
تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : ترجمہ ؛؛ تمام تعریفات اسی اللہ کی ہیں جس نے ہم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی شبیہ فرمائی ،،
یعنی پاکدامن جوان پیدا کیا جو زلیخا کی طرح بھٹکانے والی عورت کے دام فریب سے محفوظ ہوگیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *