ایک عجیب و غریب واقعہ ہے، جو ایک اندلسی عالم کو پیش آیا ۔ جنہوں نے اندلس سے مشرق تک کا سفر پیدل کیا ۔ تاکہ کسی امام سے ملاقات کرکے اس سے علم حاصل کریں ۔ لیکن جب وہ اس عالم کے پاس پہنچ گئے تو وہ قید میں تھے ۔ اور لوگوں کے ساتھ میل جل کو منع کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے اس طرح حیلہ اختیار کرکے اس عالم سے ملاقات کی اور ان سے علم حاصل کیا، کہ اگر یہ وقوع پذیر نہ ہوتا تو دل میں اس طرح حیلہ اختیار کرکے اس عالم سے ملاقات کی اور ان سے علم حاصل کیا، کہ اگر یہ وقوع پذیر نہ ہوتا تو دل میں اس طرح کے حیلہ کا خیال بھی نہ گذر سکتا تھا ۔

تاریح عجائب و غرائب کا مجموعہ ہوتا ہے، یہ عالم امام بقی الدین بن مخلد اندلسی تھے ۔ ذھبی کی سیر اعلام النبلاء اور العلیمی کی”اختصار النابلسی فی طبقات الحنابلہ” میں امام بقی الدین بن مخلد کے احوال میں لکھا ہے وہ عبدالرحمن حافظ بقی الدین بن مخلد اندلسی ” پیدائش 201 ھ وفات 276 ھ ” رحمۃ اللہ ہیں ۔

آپ نے بغداد کا سفر پیادہ کیا اس وقت آپ کی عمر تقریباً بیس برس تھی اس سفر کا سب سے اہم مقصد امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ سے ملاقات کرکے علم حاصل کرنا تھا ۔

ان سے نقل کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب میں بغداد کے قریب پہنچا تو مجھے امام احمد کے ابتلاء اور آزمائش کا علم ہوا۔ اور یہ کہ آپکو اجتماع سے منع کیا گیا ہے۔ اور آپ سے سماع کی بھی ممانعت ہے، اس خبر سے سخت غمگین ہوگیا، ایک ہوٹل میں جگہ کرایہ پر حاصل کرکے سامان رکھ کر میں کسی دوسری طرف نہ جاسکا بلکہ سیدھا مسجد جامع الکبیر آگیا، میں حلقات میں بیٹھ کر ان کے علمی مذاکرے دیکھنا چاہتا تھا، میں ایک بڑے حلقے تک پہنچا وہاں ایک صاحب رجال پر بحث کر رہے تھے، کسی کو ضعیف اور کسی کو قوی بتلا رہے تھے، میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے صاحب سے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ یحییٰ بن معین ہیں میں کھڑا ہو گیا ۔ اور میں نے کہا اے ابوذر کریا، اللّٰہ آپ پر رحم فرمائے۔ میں ایک اجنبی دور دراز کا رہنے والا ہوں میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں آپ مجھے ہلکا نہ سمجھیں، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ اپنا سوال کیجئے، میں نے بعض اھل حدیث جن سے میں نے ملاقات کی تھی کا تذکرہ کیا، انہوں نے بعض کا تزکیہ کیا اور بعض پر جرح کی۔

میں نے ان سے سوال کے آخر میں ھشام بن عمار کے بارے میں پوچھا۔ میں نے ان سے بہت علم حاصل کیا تھا، انہوں نے کہا کہ ابوالولید عمار بن ھشام نماز والے تو ثقہ ہیں اور ثقات سے بھی زیادہ ثقہ ہیں۔ اگر اس کی چادر کے نیچے تکبر ہو یا اس نے تکبر کا قلاوہ پہنا تو تب بھی اس کو اس کے خیر و فضل کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں۔ اس کے بعد اھل حلقہ نے آواز لگائی کہ اللّٰہ آپ پر رحم فرمائے۔ بس آپ کے لئے اتنا کافی ہے اور کسی کو بھی سوال کا موقعہ دیجئے۔ میں نے کھڑے کھڑے ان کو کہا کہ ایک شخص امام بن حنبل رحمۃ اللّٰہ پر کجھ تبصرہ کر دیجئے تو امام یحییٰ بن معین نے مجھ کو متعجب اور حیران کن نظروں سے دیکھا اور فرمایا ہمارے جیسے لوگ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ پر کیا تبصرہ کر سکتے ہیں وہ تو امام المسلمین سب سے اعلی اور افضل ہیں۔ پھر میں نے وہاں سے نکل کر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ کے گھر کا راستہ پوچھنا شروع کردیا۔ مجھے ان کے گھر کا راستہ بتا دیاگیا، میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر تشریف لائے، دروازہ کھولا تو ان کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، میں نے ان کو عرض کی ابو عبد اللہ میں ایک پردیسی ہوں، اور اس شہر میں میری پہلی آمد ہے۔ اور حدیث کا طالب علم اور سنت کو جمع کرنے والا ہوں، اور میرے سفر کا مقصد آپ تک ہی پہنچے کا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ”اسطوان”یعنی اندر کے راستے کی طرف آجاؤ لیکن خیال رکھیں آپ کو کوئی دیکھ نہ لے ۔

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مجھ کو کہا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو میں نے کہا مغرب اقصی کا، انہوں نے کہاں کہ افریقہ کے رہنے والے ہو ۔ میں نے کہاں افریقہ سے بہت دور ہوں ۔ میں اپنے ملک سے افریقہ کے لئے سمندر پار کرکے آتا ہوں ۔ میں اندلس کا ہوں۔ امام صاحب نے فرمایا تمہاری جگہ واقعی دور ہے، مجھے سب سے زیادہ پسند یہی بات ہے کہ میں تمہارے جیسے آدمی کے مطلب میں اس کی اعانت کروں ۔ لیکن میں ابتلاء میں ہوں جس کا حال شاید آپ کو معلوم ہوچکا ہوگا ۔ میں نے جواب میں عرض کیا کہ آپ کی ابتلاء کا علم مجھ کو اس وقت ہوا جب آپ کے قصد سے میں آپ کے شہر کے قریب پہنچ چکا تھا ۔

پھر میں نے عرض کی ابو عبداللّٰہ اس شہر میں یہ میری پہلی آمد ہے، اور مجھ کو یہاں کوئی نہیں جانتا، اگر آپ اجازت دیں تو میں روزانہ آپ کے دروازے ہر مانگنے والے سائل کی طرح آیا کروں، اور سائلوں کی طرح صدا لگاؤں اور آپ اس جگہ تک تشریف لے آئیں۔ اگر آپ مجھ کو روزانہ ایک حدیث بھی سنادیں تو میرے لئے کافی ہے، انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے، لیکن اس شرط پر کہ تم کسی علمی حلقہ میں اس کا تذکرہ نہیں کروگے، اور نہ ہی اہل علم اصحاب حدیث میں اس کا تذکرہ کروگے، میں نے کہا آپ کی شرط منظور ہے میں ہاتھ میں لاٹھی لیتا اور سر پر سائلوں کی طرح کپڑا باندھتا کاغذ اور دوات تھیلے میں ڈالتا امام احمد کے دروازے پر آکر صدالگاتا “اجر کم علی اللّٰہ”تمہارا اجر ثواب اللّٰہ کے ذمہ ہے، وہاں مانگنے کے لئے یہ صدا لگائی جاتی تھی، امام صاحب باہر تشریف لاتےگھر کا دروازہ بند کر لیتے، اور مجھ کو یا تین یا اس سے زیادہ حدیثیں سناتے یہاں تک کہ میں نے تین سو احادیث جمع کرلیں، میں پابندی سے آتا رہا اسی اثنا میں آپ کو آزمائش میں مبتلاء کرنے والا مرگیا، اس کے بعد جو بادشاہ آیا اس کا تعلق اہل سنت سے تھا۔ اس نے امام احمد رحمۃ اللّٰہ علیہ کی پابندی ختم کی، آپ کا تذکرہ بلند ہوا، لوگوں کی نظروں میں آپ کو بہت عظمت حاصل ہوئی، آپ کی امامت کے چرچے بلند ہوگئے، لوگ دور دراز سے سفر کرکے آپ کے پاس آنے لگے، میرے صبر و استقامت کو امام صاحب قدر کی نظر سے دیکھتے تھے، میں جب بھی آپ کے حلقہ درس میں آتا تو آپ حلقہ میں کشادگی کرواکر مجھ کو اپنے قریب بٹھادیتے، پھر اصحاب حدیث کو فرماتے کہ اس پر طالب علم کا نام صحیح طریقے پر صادق آتا ہے، اور جو واقعہ مجھ کو پیش آیا طالب علموں کے سامنے بیان فرماتے، لکھی ہوئی احادیث کا مجموعہ کو عطا فرماتے کبھی مجھ کو پڑھ کر سناتے اور کبھی میں آپ کو پڑھ کر سناتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *