امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم یمن کا سفر کر رہے تھےتو ہم نے توشہ دان کھانا کھانے کے لیے رکھا۔ اتنے میں مغرب کا وقت قریب آ گیا۔ تو ہم نے سوچا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کھانا کھائیں گے۔ ہم نے دسترخوان اسی حالت میں چھوڑ دیا، اور نماز میں مصروف ہوگئے۔ دسترخوان پر پکی ہوئی دو مرغیاں تھیں۔
پس ایک لومڑی آئی اور ایک مرغی لے کر چلی گئی۔ پس جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے افسوس کرتے ہوئے سوچا کہ ہمارا کھانا ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔
اب ہم سوچ رہے تھے کہ اچانک لومڑی آئی اور اس کے منہ میں مرغی کی مانند کوئی چیز تھی۔ پس لومڑی نے اسے رکھ دیا۔
پس ہم اس کی طرف دوڑے تا کہ اسے حاصل کریں اور ہم نے سمجھا کہ شاید لومڑی ہماری مرغی واپس کر رہی ہے۔
پس جب ہم مرغی لینے کے لیے گئے تو وہ لومڑی دسترخوان کے پاس جا کر دوسری مرغی بھی لے گئی۔ اور ہم جس کو مرغی سمجھ کر لینے کے لیے گئے تھے تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ مرغی جیسی کھجور کی چھال تھی جو لومڑی دھوکہ دینے کے کئے بنا کر لائی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *