پہلا واقعہ

کتاب “خیرالبشربخیرالبشر” میں ہے کہ عبید کلابی نے ابراھیم سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبدااللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کا ایک گروہ حج کے ارادے سے نکلا اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ یہاں تک کہ جب ہم نے کچھ سفر طے کر لیا تو راستے میں سفید سانپوں کو بل کھا تے ہوئے دیکھا۔ جن سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو سفر جاری رکھنے کا حکم دیا۔اور اپنے بارے میں خیال کیا کہ اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا، جب تک کہ اس راز کا سراغ نہ لگالوں۔
پس کچھ دیر کے بعد سانپ مر گیا۔ پس میں نے اسے کفن پہنایا۔ اور راستے سے علیحدہ ہو کر ایک طرف دفن کردیا۔ پھر اس کے بعد عشاء کے وقت اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا۔
راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم بیٹھے ہی تھے، کے اچانک مغرب کی جانب سے چار عورتیں آئیں۔ پس ان میں سے ایک نے کہا، کے عمرو کو کس نے دفن کیا ہے؟ پس ہم نے کہا کہ کون عمرو؟ عورت نے کہا، کہ سانپ کو کس نے دفن کیا ہے۔ راوی کہتے میں نے کہا کہ میں نے دفن کیا ہے۔ پس عورت نے کہا اللہ کی قسم تم نے صائم وقائم بلایمان کو دفن کیا ہے۔ جو اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اور تمہارے نبی اکرمؐ پر ایمان رکھتا تھا اور اس نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق ان کی بعثت سے چار سو سال قبل آسمان پر سنا تھا۔
ابراھیم کہتے ہیں کہ میں نے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور حج سے فراغت کے بعد ہم نے اس واقعہ کا ذکر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے کیا تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ اس عورت نے سچ کہا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔


دوسرا واقعہ

حضرت ابنِ عمر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ امیر المومنین کیا آپ کو عجیب و غریب واقعہ نہ سناؤ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں ضرور سناؤں۔
اس آدمی نے کہا کہ میں جنگل میں جا رہا تھا، تو میں نے دو سانپوں کو باہم لڑتے ہوئے دیکھا۔ پہلے وہ ایک دوسرے کی جانب بڑھے پھر علیحدہ ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں جب میں اس جگہ کے قریب پہنچا جہاں وہ آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو کیا دیکھتا ہوں، کہ ایسے سانپ ہیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ نیز ایک سانپ پتلا زرد رنگ کا تھا، جس سے مشک کی خوشبو آ رہی تھی۔ پس میں نے خیال کیا کہ یہ خوشبو میرے لیے فائدہ مند ہوگی۔ پس میں نے خوشبو اٹھائی اور اپنے عمامہ میں رکھ لی۔ پھر اس کے بعد میں نے سانپ کو دفن کر دیا۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے سانپ کو دفن کرنے کے بعد چلنے کا ارادہ کیا ہی تھا، کہ غیب سے آواز لگانے والے نے کہا کہ اللہ تجھے ہدایت دے یہ دونوں سانپ جنات تھے۔ ان دونوں میں سے جو شہید ہوا ہے یہ وہ جن ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم سنا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *