عاشق کامع اپنی تمام صفات کے مٹ جانا اور محبوب کو اس کی ذات کے ساتھ ثابت کرنا محبت ہے۔

اس بات سے ڈرتے رہنا کہیں احترام میں کمی نہ ہو، محبت کہلاتا ہے۔

اپنی کثیر چیز کو قلیل سمجھنا اور محبوب کی قلیل چیز کو کثیر سمجھنا محبت ہے۔

جب کسی قوم میں محبت پاک وصاف ہوتی ہے اور پھر یہ محبت دائم رہے، تو ایک دوسرے کی تعریف کرنا نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ابو علی وقاق

محبت میں حد سے تجاوز کرنا عشق کہلاتا ہے۔          ابن عطاء

ایک قسم کی محبت ہوتی ہے کہ اس سے خون بہنے سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ایک قسم کی محبت سے خون کا بہانا واجب ہو جاتا ہے۔   ابن عظاء

جب سچی اور صحیح محبت پیدا ہو جائے تو پھر آداب کے شرائط ساقط ہو جاتے ہیں۔          حضرت جنید

حقیقی محب یہ ہے کہ تو اپنے تمام اوصاف کو بالائے طاق رکھ کر اپنے محبوب کے ساتھ قائم رہے۔     حسین بن منصور

محبت یہ ہے کہ خوا کچھ بھی ہو تو محبت کو ترک نہ کرے۔نصرآبادی

محبت یہ ہے کہ محبوب کی محبت کے سوا ہر قسم کی محبت دل سے دور ہو جائے۔           محمد بن فضل

مجھے اس شخص پر تعجب آتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے محبوب کو یاد کیا۔ میں تو اسے کھبی بھولتا ہی نہیں ہوں کہ یاد کرنے کی ضرورت پڑے۔

اے محبوب جب تمہارا ذکر کرتا ہوں تو مر جاتا ہوں اور پھر زندہ ہو جاتا ہوں ۔اگر میرا حسن ظن نہ ہوتا تو زندہ بھی نہ ہوتا۔

محبوب کی ملاقات کے لئے دلوں مارنا جوش مارنا شوق کہلاتا ہے۔ چنانچہ جس قدر محبت ہوگی اسی قدر شوق بھی ہوگا۔ عبدالکریم بن ہوازن تشیری

وجد کے ساتھ دل کی خوشی اور محبوب کی ملاقات کے قرب کی محبت کا نام شوق ہے۔       ابن خفیف

محبت کا ایک عمدہ پہلو یہ ہے کہ یہ فکر کرنے کی عادت ڈالتی ہے۔ فیشاغورث

دولت سے محبت کرنے والوں سے دنیا بھری ہوئی ہے۔ اسی دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو صرف خود سے محبت کرتے ہیں اور تنہا تنہا سے رہتے ہیں۔ مجھے وہ محبت دے دو جو صرف محبت سے محبت کرتی ہے۔ میں صرف اسی محبت کو چاہتا ہوں۔ سرڈبلیو گلبرٹ

محبت کا لطف محبت کرنے میں ہے۔ کوئی شخص ان جذبات سے یقیناً زیادہ لطف حاصل کرتا ہے جو اس کے اپنے دل میں پیدا ہوتے ہیں، بہ نسبت ان جذبات کے جو وہ دوسروں کے دل میں پیدا کرتا ہے۔         لارڈشینوکالڈ

آسمان اور زمین پر جو بھی بہترین ہے، محبت اس سے بہتر ہے۔ ورڈزورتھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *