حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے واقعہ کی ایک دوسری

روایت ہے جس کے راوی ان کے بھتیجے عبداللہ بن الصامب الغفاری رضی اللہ عنہ ہیں ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اپنی صحیح میں ذکر کیا، جس کا خلاصہ یہ ہے، حضرت ابوذر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارا قبیلہ غفار اشھر حرام کو حلال سمجھتے تھے، میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ ہم اپنے قبیلے سے نکل کر مکہ کے قریب ایک جگہ اتر گئے، میرا بھائی کسی کام کی غرض سے مکہ مکرمہ چلے گئے، واپس آنے میں انہوں نے تاخیر کر دی، واپسی پر میں نے تاخیر کی وجہ دریافت کی تو کہنے  لگے کہ مکہ مکرمہ میں میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو کہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو نبی بنا کر بھییجا۔ میں نے کہا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، اس نے کہاں کہ لوگ ان کو شاعر کاہن اور جادوگر کہتے ہیں ۔

انیس خود بھی شاعر تھے، انیس کہنے لگے کہ میں نے کاہنوں کی باتیں سنیں ہیں ، لیکن ان کا کلام کاہنوں کی طرح نہیں، اور بڑے بڑے شعراء کے کلام کے مطابق میں نے ان کے کلام کو پرکھا ۔

لیکن ہر بڑے شاعر کے کلام میں سے میں نے ان کے کلام کو فائق پایا ان کا کلام شعر نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ سچے اور باقی لوگ جھوٹے ہیں ۔ حضرت ابوذر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے بھائی کو کہا کہ پھر میں جاتا ہوں تم میرا انتظار کرو، تاکہ میں ان کا معاملہ دیکھ لوں، کہتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ آگیا اور لوگوں میں ایک ضعیف اور کمزور شخص کو تلاش کیا، اور اس سے پوچھا”اسلئے کہ ضعیف آدمی  سے اکثر و بیشتر شر کا خطرہ کم ہوتا ہے”کہ تم جس شخص کو صابی کہتے ہو وہ کہاں ہے ؟ اس نے میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ صابی ہے ۔ اس کے کہنے سے تمام بستی والے پتھروں، ڈھیلوں اور ہڈیوں سے پر پل پڑے ۔ اور میں بے ہوش ہوکر گر گیا ۔ مجھ کو جب ہوش آیا تو زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے سرخ بت کی طرح تھا”اہل جاہلیت پتھروں کے بتوں کے پاس جانور ذبح کرتے تھے اور خون ان پر ڈال دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ سرخ ہو جاتا تھا”

فرماتے ہیں کہ میں زمزم کے کنویں کے پاس آیا، اپنے جسم سے خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا، حضرت ابوذر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بھتیجے مجھے اس حالت میں تیس دن ہوگئے، میرے کھانے پینے کے لئے زمزم کے علاوہ اور کوئی چیز نہ تھی، لیکن زمزم کے پانی کے ساتھ میں اتنا موٹا تازہ ہوگیا کہ میرے پیٹ میں سلوٹیں پڑگئیں، اس عرصہ میں مجھے بھوک کا اثر اور کمزوری محسوس نہیں ہوئی ۔

فرماتے ہیں کہ ایک چاندی رات میں تمام اہل مکہ سوگئے ۔ کعبہ کے گرد طواف کرنے والا کوئی بھی نہ تھا ۔ کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ تشریف لائے حجر اسود کا استیلام کیا بیت اللہ کا طواف کیا اور نماز پڑھی ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے حاضر ہوکر سلام کیا ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چوچھا تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی قبیلہ غفار سے ہوں، آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنی پیشانی پر رکھا میں نے دل میں سوچا کہ میری قبیلہ بنو غفار کی طرف نسبت کرنے کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ناپسند سمجھا، میں نے آپ کے ہاتھ مبارک کو پکڑنا چاہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے مجھ کو روکا ۔ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ سے زیادہ جاننے والے تھے، انہوں نے مجھ سے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بدشگونی دور کرنے کے لئے ایسا کیا ۔

پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے سر مبارک اٹھا کر مجھ سے پوچھا کہ تم کب سے یہاں ہو ؟ میں نے عرض کی تیس دن سے، آپ نے پوچھا تم کو کھانا کون دیتا ہے ۔ میں نے کہا زمزم کے علاوہ میرا کوئی کھانا نہیں ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ میں اتنا موٹا تازہ ہوگیا ہوں کہ میرے پیٹ میں سلوٹیں پڑگئیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کا اثر بھی محسوس نہیں کرتا آپ نے فرمایا کہ یہ پانی کھانے کا کھانا اور بیمار کے لئے شفا ہے ۔

حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ عرض کی کہ حضرت آج ان کے کھانے کے لئے مجھے اجازت دے دیجئے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ چل پڑے میں بھی ان کے ساتھ ہوگیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے دروازہ کھولا اور مٹھیاں بھر بھر کر طائف کی کشمش ہمارے لئے لاتے رہے یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ مکرمہ میں کھایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *