مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانہ کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے، قوم میں عدل و انصاف کیا کرتے تھے۔
مروی ہے کہ حضرت یسع بہت بوڑھے ہوگئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی اپنا خلیفہ مقرر کر دوں۔ اور دیکھ لوں کہ وہ کیسا عمل کرتا ہے۔ چنانچہ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔
دن بھر روزہ سے رہے
رات بھر قیام کرے
اور کبھی بھی غصہ نہ ہو۔
کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا۔ ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ میں اس شرط کو پورا کردوں گا۔ آپ نے پوچھا، کیا تو دنوں کو روزہ سے رہے گا، اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا، اور کسی پر غصہ نہ کرے گا؟ اس نے کہا، ہاں۔ حضرت یسع نے فرمایا، اچھا اب کل سہی۔
دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس عام میں سوال کیا۔ لیکن اس شخص کے علاوہ اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔
اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کو بہکانے کے لئے بھیجنا شروع کر دیا۔ مگر کسی کی نہ چلی۔ ابلیس خود چلا، دوپہر کو قیلولے کے لئے آپ لیٹے ہی تھے کہ خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کر دیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہنا شروع کیا، کہ میں ایک مظلوم ہوں۔ فریادی ہوں۔ میری قوم مجھےستا رہی ہے۔ میرے ساتھ اس نے یہ کیا، یہ کیا، اب جو لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا، نیند کا سارا وقت اس میں چلا گیا۔ ذوالکفل دن رات میں بس اسی وقت ذرا سی دیر کے لئے سوتے تھے۔ آپ نے فرمایا، اچھا شام کو آنا، میں تمھارے انصاف کروں گا۔ اب شام کو جب آپ فیصلے کرنے لگے ہر طرف اسے دیکھتے ہیں لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔
دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا، پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادہ سے لیٹے تو یہ خبیث آگیا۔ اور دروازہ ٹھونکنے لگا۔ آپ نے دروازہ کھول دیا، اور فرمانے لگے، میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا۔ میں منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا، حضرت کیا بتاؤں؟ جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے، تم نہ جاؤ، ہم تمہارا حق ادا کر دیتے ہیں۔ میں رک گیا۔ پھر انہوں نے اب انکار کر دیا۔ پھر لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کر دیئے۔ اور آج کی نیند بھی کھوئی۔ اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔
تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی آدمی دروازے پر نہ آنے پائے۔ مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے۔ آپ ابھی لیٹے تھے کہ وہ آگیا۔ چوکیدار نے اسے روکا۔ یہ ایک طاق میں اندر گھس گیا۔ اور اندر سے دروازہ کھٹکٹھانا شروع کیا۔ آپ نے اُٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ میں نے تمہیں ہدایت کر دی تھی پھر بھی آپ نے اسے دورازے پر آنے سے نہیں روکا؟ اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔
اب جوغور سےآپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔ آپ پہچان گئے، کہ یہ شیطان ہے۔ اس وقت شیطان نے کہا، اے اللہ کے ولی، میں تجھ سے ہارا۔ نہ تو تُو نے رات کا قیام ترک کیا، نہ تو اس نوکر پر ایسے موقع پر غصہ ہوا۔ پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لئے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھی انہیں پورا کر دکھایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *