ایک شخص نے لوگوں کو کسی درخت کی پوجا کرتے دیکھا تو غصہ سے بے قابو ہوگیا۔ گھر سے کلہاڑی لی اور گدھے پر سوار ہو کر اس درخت کو کاٹنے کی نیت سے روانہ ہوا۔ راستے میں ابلیس سے ملاقات ہوگئی۔ ابلیس کہنے لگا حضرت! کہاں تشریف لے جارہے ہو۔
فرمایا لوگ ایک درخت کی پوجا کرتے ہیں۔ میں نے اس کو جڑ سے کاٹ ڈالنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ ابلیس نے کہا۔ آپ کہاں جھگڑے میں پڑتے ہو۔ چھوڑیے، جو مردود اس کی پوجا کرتے ہیں، خود بھگتیں گے۔
چنانچہ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا، اور تین مرتبہ مار پیٹ ہوئی۔ جب ابلیس نے سمجھ لیا کہ یہ شخص قابو میں آنے والا نہیں ہے۔ تو اس نے دوسری چال چلی۔ کہنے لگا آپ اس کام کو رہنے دیجئے۔ اس کے عوض روزانہ آپ کو چار درہم دیا کروں گا۔ ہر صبح آپ کو بستر کے نیچے ملا کریں گے۔ یہ چال کارگر ہوگئی۔
وہ شخص کہنے لگا۔ کیا واقعی ایسا ہوگا؟
ابلیس نے کہا ہاں ہاں بالکل پختہ وعدہ کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ شخص اپنے گھر کو واپس چلا گیا۔ صبح کو روزانہ بستر کے نیچے سے چار درہم ملتے رہے۔
چند روز کے بعد میدان خالی پایا۔ دوسرے دن بھی کچھ نہ ملا۔ پھر غصہ آیا اور کلھاڑی لے کر چل دیا۔ راستے میں وہی ابلیس ملا اور کہنے لگا۔
حضرت کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ شخص بولا۔ درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی پوجا ہوتی ہے۔ ابلیس نے کہا۔ بس میاں اب تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔
پہلے آپ اللہ کے لیے جا رہے تھے۔ اگر میں پوری طاقت بھی لگا لیتا تو آپ کو نہیں روک سکتا تھا۔ اور اب آپ کا جانا اللہ کے لیے نہیں بلکہ چار درہم کے لئے ہے اگر ادھر سے قدم بڑھایا تو خیر نہیں ہے گردن اڑا دوں گا۔ مجبوراً اس ارادہ کو ترک کرکے گھر واپس ہونا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *