خوشی کا دن سب سے برا دن ثابت ہوا، ایک سبق آموز واقعہ

یزید بن ملک اموی خلیفہ گزرے ہیں۔ ایک دن وہ کہنے لگے، کہ کون کہتا ہے کہ بادشاہوں کو خوشیاں نصیب نہیں ہوتیں؟ میں آج کا دن خوشی کے ساتھ گزار کر دکھاؤں گا۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ کون مجھے روکتا ہے۔
کہا آج کل بغاوت ہو رہی ہے، یہ ہو رہا ہے، وہ ہو رہا ہے، تو مصیبت بنے گی۔ کہنے لگا، آج مجھے کوئی ملکی خبر نہ سنائی جائے، چاہے بڑی سے بڑی بغاوت ہو جائے۔ میں کوئی خبر سننا نہیں چاہتا۔ آج کا دن خوشی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔
اس کی بڑی خوبصورت لونڈی تھی، اس کے حسن و جمال کا کوئی مثل نہ تھا۔ اس کا نام حبا تھا۔ بیویوں سے زیادہ اسے پیار کرتے تھے۔ اس کو لے کر محل میں داخل ہوئے۔ پھل آ گئے، مختلف کھانے کی چیزیں آ گئیں، مشروبات آ گئے۔ کہ آج کا دن امیرالمومنین خوشی سے گزارنا چاہتے ہیں۔
آدھے سے بھی کم دن گزرا ہے کہ حبا کو گود میں لیے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہا ہے، اور اسے انگور کھلا رہا ہے، اپنے ہاتھوں سے توڑ توڑ کر اس کو کھلا رہا ہے۔ ایک انگور کا دانہ لیا، اور اس کے منہ میں ڈال دیا۔ وہ کسی بات پر ہنس پڑی تو وہ انگور کا دانہ سیدھا اس کی سانس کی نالی میں جا کر اٹکا، اور ایک جھٹکے کے ساتھ اس کی جان نکل گئی۔
جس دن کو وہ سب سے زیادہ خوشی کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا، اس کی زندگی کا ایسا بدترین دن بنا کہ وہ دیوانہ ہو گیا۔ تین دن تک اس کو دفن کرنے نہیں دیا۔ تو اس کا جسم گل سڑ گیا۔ زبردستی بنوامیہ کے سرداروں نے اس کی میت کو چھینا اور دفن کیا۔ اور دو ہفتے کے بعد یہ دیوانگی میں مر گیا۔

(حیات الحیوان)

1 Comment


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *