fmzalerts.com-4977231_1280

زید ابن اسلم نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق بیٹھے ہوئے لوگوں سے محاطب تھے تو ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ مجلس میں حاضر ہوئے۔ اس کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ میں نے ایسی مشابہت کوؤں میں بھی نہیں دیکھی جیسی کہ تجھ میں اورتیرے لڑکے میں ہے۔ اس شخص نے جواب دیا کہ امیر المومنین اس لڑکے کو اس کی والدہ نے اس وقت جنم دیا جب وہ مر چکی تھی۔ یہ سن کر عمر فاروق سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس بچے کا قصہ مجھے بیان کرو۔

تو اس شخص نے کہا کہ اے امیر المومنین ایک مرتبہ میں نے سفر کا اِرادہ کیا اس وقت اس کی والدہ کو اس کاحمل تھا اس نے مجھے کہا کہ تم مجھے اس حال میں چھوڑ کر سفر پر جا رہے ہو میں حمل کی وجہ سے بوجھل ہو رہی ہوں۔ میں نے کہا کہ میں اس بچے کو جو تیرے بطن میں ہے اللہ کے سفرد کرتا ہوں یہ کہہ کر میں سفر پر روانہ ہوگیا اور کئی سال تک گھر سے باہر رہا۔ پھر جب گھر واپس آیا تو گھر کا دروازہ بند دیکھ کر میں نے پڑسیوں سے معلوم کیا کہ میری بیوی کہاں ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اس کا انتقال ہوگیا میں نے اِنۤا للہ و اِنۤا الیہ راجعون پڑھا اور اس کے بعد میں اپنی بیوی کے قبر پر گیا۔ میرے چچا ذاد بھائی میرے ساتھ تھے۔ میں کافی دیر تک قبر پر رکا رہا اور روتا رہا میرے بھایئوں نے مجھے تسلی دی اور واپسی کا ارادہ کیا اور مجھے واپس لانے لگے۔ چند گز ہی ہم آئے ہونگےکہ مجھے قبرستان میں ایک آگ نظر آئی۔ میں نے اپنے بھایئوں سے پوچھا کہ یہ آگ کیسی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ آگ روزانہ رات کے وقت بھابی مرحومہ کی قبر سے نمودار ہوتی ہے

میں نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھی اور کہا کہ یہ عورت تو بہت نیک اور تہجد گزار تھی تم مجھے دوبارہ اس کی قبر پر لے چلو۔ تو وہ لوگ مجھے قبر پر لے گئے۔ جب قبرستان میں داخل ہوا تو میرے چچازاد بھائی وہیں ٹھر گئے اور میں تنہا اپنی مرحومہ بیوی کی قبر پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبر کھلی ہوئی ہے اور میری بیوی بیٹھی ہے اور یہ لڑکا اس کے چاروں طرف گھوم رہا ہے۔ ابھی میں اسی طرف متوجہ تھا کہ ایک غیبی آواز آئی کہ اے اللہ کو اپنی امانت سپرد کرنے والے اپنی امانت واپس لے اور اگر تُو اس کی والدہ کو اللہ کے سپرد کرتا تو وہ بھی تجھ کو مل جاتی۔ یہ سن کر میں نے لڑکے کو اٗٹھالیا۔ میرے لڑکے کو اٹھاتے ہی قبر برابر ہوگئی۔ امیر المومنین میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ صحیح ہے۔

حفاظت خداوندی کا ایک دوسرا واقعہ

عبید بن واقد لیشی بصری فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کیلئے روانہ ہوا تو اتفاق سے میری ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جس کے ساتھ ایک لڑکا تھا جو کہ نہایت خوب صورت اور تیز رفتار تھا۔ میں اس شخص سے پوچھا کہ یہ لڑکا کس کا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ یہ لڑکا میرا ہی ہے اور اس کے متعلق ایک عجیب وغریب واقعہ ہے جو میں آپ کو سناتا ہوں۔

اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں حج کیلئے گیا اور یہ لڑکا پیدا ہوا لیکن اس کی والدہ عسرت ولادت کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ تو میں اس کی والدہ کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہوگیا اور جب تکفین وغیرہ سے فارغ ہوا اور روانگی کا وقت قریب آیا تو میں نے اس لڑکے کو ایک پارچہ میں لپیٹ کر ایک غار میں رکھ دیا اور اس کے اوپر پتھر رکھ دیئے اور یہ خیال کرتا ہوا قافلہ کے ساتھ روانہ ہوگیا کہ یہ بچہ کچھ دیر بعد مر جائے گا۔

پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور واپس لوٹے تو ہم نے اسی جگہ قیام کیا تو میرے ساتھیوں میں سے ایک شخص اسی غار کی طرف گیا پس اس نے غار سے پتھر ہٹائے تو اس نے دیکھا کہ لڑکا زندہ ہے اور انگلی چوس رہا ہے اور ہم نے دیکھا کہ اس بچھے کی انگلی سے دودھ بہہ رہا ہے پس میں نے اس کو اٹھا لیا یہ وہی بچہ ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *