علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں کہ مین نے ابن ظفر کی کتاب النصائح میں پڑھا ہے۔ کہ ابن ظفر لکھتے ہیں کہ میں اندلس کے ایک سرحدی علاقہ میں گیا۔ پس میری ملاقات قرطبہ کے ایک نوجوان فقیہ سے ہوئی۔ پس اس نوجوان کی علمی گفتگو سے مین بے حد متاثر ہوا۔ پھر میں نے ایک دن یہ دعا مانگی یامن قال واسئلواللہ من فضلہ ترجمہ اے وہ ذات جس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔
پس اس نوجوان نے کہا، کہ کیا میں اس آیت کے متعلق آپ کو عجیب و غریب قضہ نہ سناؤں۔ میں نے کہا کیوں نہیں۔ اس نے بیان کیا کہ ہمارے بزرگوں کے حوالے سے یہ قصہ منقول ہے کہ ہمارے یہاں طلیطلہ کے دو راہب جو اپنے شہر میں بہت قابل قدر سمجھے جاتے تھے، وہ تشریف لائے۔ وہ دونوں عربی زبان جانتے تھے۔ اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے تھے۔ نیز وہ دونوں قرآن اور فقہ کے ماہر تھے۔ پس لوگ ان دونوں کے بارے میں بد گمان تھے۔
نوجوان فقیہ کہتا ہے کہ ہمارے بزرگوں میں سے کسی نے ان دونوں کو اپنے ہاں ٹھہرا لیا اور ان کی خوب خاطر مدارت کی۔ وہ دونوں راہب بوڑھے تھے۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد ان میں سے ایک فوت ہوگیا۔ مگر دوسرا کئی عرصہ تک ہمارے یہاں مقیم رہا۔ پھر اس کے بعد وہ بھی بیمار پڑگیا۔
قرطبہ کا نوجوان کہتا ہے کہ ایک دن میں نے اس راہب سے پوچھا کہ تمہارے مسلمان ہونے کا سبب کیا ہے؟ پس اس راہب نے میرے سوال پر کراہت کا اظہار کیا۔ پس میں اس کے ساتھ نہایت اخلاق کے ساتھ پیش آیا اور اس سے پھر ہہی سوال کیا۔ پس اس راہب نے کہا، کہ اہلِ قرآن یعنی مسلمانوں کا ایک قیدی ایک کلیسہ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ اور ہم دونوں اس کلیسہ کی خانقاہ میں سکونت پذیر تھے۔ ہم نے اس قیدی کو اپنی خدمت کیلئے مخصوص کرلیا اور وہ قیدی ہمارے پاس طویل عرصہ تک رہا۔ یہاں تک کہ ہم نے اس قیدی سے عربی زبان سیکھ لی اور ہمیں قرآن کریم کی اکثر آیات اس قیدی کی وجہ سے حفظ ہو گیئں۔ کیونکہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتا تھا۔
پس ایک دن اس قیدی نے یہ آیت پڑھی واسئلُواللہ من فضلہ پس میں نے اپنے ساتھی سے کہا، جو مجھ سے زیادہ صاحب الرائے اور عقلمند تھا کہ تم نے سنا یہ آیت کس چیز کی دعوت دے رہی ہے؟ پس میرے ساتھی نے مجھے جھڑک دیا۔ پھراس قیدی نے ایک دن یہ آیت پڑھی، و قال ربکم ادعونی استجب لکم، ترجمہ اور فرمایا تیرے رب نے کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری دُعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ آیت پہلی آیت سے زیادہ بلیغ ہے۔ میرے ساتھی نے کہا کہ مجھے وہ بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے جو مسلمان کہتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام نے جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کی تھی وہ مسلمانوں ہی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
راہب کہتا ہے کہ ایک دن ہم دونوں کھانا کھا رہے تھے۔ اور مسلمان قیدی کھڑا ہوا ہمیں شراب پلا رہا تھا۔ کہ اچانک میرے حلق میں لقمہ اٹک گیا۔ پس میں نے قیدی کے ہاتھ سے پیالہ لے لیا اور مزید شراب پینے سے انکار کر دیا۔ پس میں نے اپنے دل میں کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب آپ کا یہ فرمان ،واسئلواللہ من فضلہ، اور تو نے فرمایا ،اُدعونی استجب لکم، پس اگر یہ نبی جن کے ذریعے آپ کے یہ پیغام پہنچے ہیں بر حق ہیں تو آپ مجھے پانی پلا دیں۔
پس اس وقت خانقاہ کا ایک پتھر پٹھا اور اس میں سے پانی بہنے لگا۔ میں اس پتھر کے قریب پہنچا اور میں نے پانی پیا۔ پس جب میری حاجت پوری ہو گئی تو پانی آنا بند ہوگیا۔
نیز مسلمان قیدی میرے پیچھے کھڑا ہوا یہ حالات دیکھ رہا تھا۔ پس اس کے دل میں اسلام کے متعلق شک پیدا ہو گیا۔ اور میرے دل میں اسلام کیلئے رغبت اور یقین پیدا ہوگیا۔ پس میں نے اس واقعہ کی اطلاع اپنے ساتھی تک پہنچائی۔ پس میں اور میرا ساتھی دونوں مسلمان ہوگئے۔
پس دوسرے دن وہ مسلمان قیدی ہمارے پاس آیا ہور ہم سے عیسائی ہونے کی رغبت ظاہر کی۔ ہم نے اس کو جھڑک دیا اور اپنی خدمت سے علیحدہ کر دیا۔ پھر اس کے بعد اس نے اپنے دین کو چھوڑ دیا اور عیسائی ہوگیا۔
ہم دونوں اپنے معاملے میں پریشان تھے، کہ کسی طرح کہیں جا کر خلوص سے ہدایت حاصل کریں اور دین اسلام کو مضبوطی سے اپنے دلوں میں جما لیں۔
بلآخر میرے ساتھی نے جو مجھ سے زیادہ عقلمند تھا۔ سوچ کر کہا کہ ہمیں انہی دعاؤں کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہیے۔ پس ہم نے اس خلجان سے نجات کیلئے انہی دو آیتوں کو پڑھکر دعا مانگی اور ہم دوپہر کے وقت سوگئے۔ پس میں نے خواب دیکھا، کہ تین نورانی چہرے والے اشخاص ہماری عبادت گاہ مین داخل ہوئے۔ اُنہوں نے عبادت خانے میں موجود تصویروں کی طرف اشارہ کیا، تو وہ تصویریں مٹ گیئں۔ پس انہوں نے ایک تخت لا کر وہاں بچھا دیا۔ پھر انہی کی مثل ایک جماعت وہاں آئی جن کے چہرے اور سر سے نور ٹپک رہا تھا۔ نیز ان کے درمیان ایک آدمی اتنا حسین و جمیل تھا، کہ میں نے ان سے زیادہ حسین و جمیل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پس وہ تحت پر جلوہ افروز ہوگئے۔ میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ سید المسیح علیہ السلام ہیں؟ پس انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ میں ان کا بھائی احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ پھر انہوں نے مجھے حکم دیا، کہ مسلمان ہوجاؤ۔ پس میں مسلمان ہوگیا۔ پھر اس کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم یہاں سے نکل کر آپؐ کی اٗمت کے ملک میں جانا چاہتے ہیں، اس کی کیا صورت ہوگی؟
پس آپؐ نے ایک آدمی سے جو آپؐ کے سامنے کھڑا تھا، فرمایا کہ تم ان کے بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ ان دونوں مسلمانوں کو اس شہر میں جس میں یہ جانا پسند کریں عزت و احترام کے ساتھ پہنچانے کا بندوبست کرے، اور اس قیدی کو جو مرتد ہوگیا ہے اس کو بلا کر تاکید کریں کہ وہ اپنے دین پر لوٹ آئے۔ اور اگر وہ انکار کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔
راہب کہتا ہے، کہ اس کے بعد میں نیند سے بیدار ہوا۔ نیز میں نے اپنے ساتھی کو جگایا اور اس کو پورا خواب سنایا۔ اور میں نے اس سے پوچھا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ پس اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے آسانی پیدا فرمادی ہے۔ کیا تو نے ان تصویروں کی حالت کو نہیں دیکھا؟ راہب کہتا ہے کہ میں نے تصویروں کی طرف دیکھا تو وہ مٹ چکی تھیں۔ پس اس سے میرے ایمان ویقین میں مزید اضافہ ہوا۔
پھر اس کے بعد میرے ساتھی نے کہا کہ چلو بادشاہ کے پاس چلتے ہیں۔ پس ہم بادشاہ کے پاس گئے۔ بادشاہ نے حسب دستور ہماری تعظیم کی لیکن وہ ہمارے آنے کا مقصد نہ سمجھ سکا۔ پس میرے ساتھی نے بادشاہ سے کہا، کہ ہمارے متعلق اور اس قیدی کے متعلق جو آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل فرمایئے۔
یہ سنتے ہی بادشاہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ کانپنے لگا۔ جب اسے کچھ افاقہ ہوا تو اس نے قیدی کو بلایا اور پوچھا کہ تو مسلمان ہے یا عیسائی؟ پس قیدی نے جواب دیا کہ عیسائی ہوں۔ پس بادشاہ نے اس قیدی کو حکم دیا، کہ تو اپنے دین کی طرف لوٹ جا کیونکہ ہمیں ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے جو اپنے دین کی حفاظت نہ کر سکے۔ پس قیدی نے کہا کہ میں ہر گز اپنے دین کی طرف نہیں لوٹوں گا۔ پس بادشاہ نے اپنی تلوار سے اس کی گردن اڑا دی۔ پھر بادشاہ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ میرے اور تمہارے خواب میں نظر آنے والا شخص تو شیطان تھا لیکن اب تمھارا کیا ارادہ ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے ملک میں جانا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے کہ کہ میں تمہاری خواہش کے مطابق انتظام کر دوں گا، لکین تم لوگوں سے اس بات کا اظہار کرنا کہ ہم بیت المقدس جا رہے ہیں۔ پس ہم نے کہا کہ ہم ایسا ہی کہیں گے۔ پس بادشاہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم لوگ آپ کے شہر میں آگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *