دینِ حق پر قائم رہنا، چاہے جان بھی چلی جائے۔ ایک دلچسپ حکایت

مفسرین ایک حدیث جو کہ صحیح مسلم و دیگر کتب میں منقول ہے بیان کرتے ہیں کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ ایک بادشاہ تھا، اور اس کے یہاں ایک کاہن اور برودایت و دیگر ساحر تھا۔ ایک دن اس نے بادشاہ سے کہا، کہ چونکہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں، اور مجھ کو اندیشہ ہے، کہ اگر میں مر گیا تو یہ میرا علم تم سے منقطع ہو جائے گا۔ لہٰذا تم میرے لئے کوئی ذہین اور سریع الفہم لڑکا تلاش کرو، تا کہ اس کو میں اپنا یہ علم سکھا دوں۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کی منشاء کے مطابق ایک لڑکا تلاش کرادیا اور اس کو حکم دیا، کہ وہ شاہی ساحر کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا کرے۔
چنانچہ وہ لڑکا حسب الحکم ساحر کے پاس آنے جانے لگا۔ چناچنہ جس راستے سے وہ لڑکا ساحر کے پاس آتا، اس راستے میں کسی راہب کی ایک خانقاہ بھی تھی۔ چنانچہ لڑکا جب ساحر کے پاس آتا جاتا تو راستے میں اس راہب کے پاس بھی بیٹھ جاتا، اور اس سے بات چیت کرتا۔ اس کو ساحر کے پاس پہنچنے میں کچھ دیر لگ جاتی۔ اس پر ساحر نے لڑکے کے والدین سے کہلا بھیجا، کہ تمھارے لڑکے نے میرے پاس آنا بہت کم کر دیا ہے۔ لڑکے نے ساحر کی اس شکایت سے راہب کو بھی مطلع کر دیا۔ چنانچہ راہب نے لڑکے سےکہہ دیا، کہ جب تجھ کو ساحر سے ڈر لگا کرے، تو تم اس سے یہ کہ دیا کرو، کہ مجھے گھر والوں نے روک لیا تھا۔ اور جب گھر والے دیر سے پہنچنے پر تجھ سے بازپرس کریں تو کہہ دیا کرنا کہ مجھ کو ساحر نے دیر سے چھوڑا ہے۔
چنانچہ لڑکا کچھ دن ایسا ہی کرتا رہا۔ ایک دن وہ چلا آ رہا تھا کہ ایک بڑا جانور نمودار ہوا اور لوگ اس کے ڈر سے راستہ چلنے سے رک گئے۔ لڑکے نے جب یہ نظارہ دیکھا تو دل میں سوچنے لگا کہ آج ساحر اور راہب کا عقدہ کھل جائے گا۔ کہ آیا ساحر سچا ہے ، یا راہب۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا، اور یہ کہہ کر کہ یااللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا عمل ساحر کے عمل سے محبوب ہے تو اس دابہ کو ہلاک کردے۔ اس نے یہ کہہ کر مار دیا۔ خدا کی قردت کہ پتھر لگتے ہی وہ جانور ہلاک ہوگیا۔ یہ دیکھ کر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اس لڑکے کو کوئی ایس علم حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں۔
اتفاق سےبادشاہ کا ایک مصاحب نابینا تھا۔ جب اس کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ لڑکے کے پاس پہنچا، اور کہنے لگا، کہ اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھ کو اتنا انعام دوں گا۔ لڑکے نے جواب دیا، کہ مجھے کو انعام کی قطعی حاجت نہیں۔ البتہ میری آپ سے یہ شرط ہے کہ اگر آپ ٹھیک ہوگئے تو کیا اس ذات پر جس کے حکم سے آپ ٹھیک ہوں گے ایمان لے آیئں گے؟ نابینا نے یہ شرط منظور کر لی۔ اور کہا، کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔ چنانچہ لڑکے نے اللہ تعالٰی سے اس کے لئے دعا مانگی۔ دعا ختم ہوتے ہی نابینا ، بینا ہو گیا اور اس نے دین حق قبول کر لیا۔
اس کے بعد یہ شخص حسب معمول بادشاہ کی مجلس میں آ کر بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے اس کو بینا دیکھ کر پوچھا کہ یہ تیری بینائی کس نے لوٹا دی؟ اس نے جواب دیا کہ میرے رب نے۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، کہ کیا میرے سوا تیرا اور بھی کوئی رب ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ یہ جواب سن کر بادشاہ نے ایک آرہ منگوایا، اور اس کے سر پر چلوا کر دو ٹکڑے کرادیئے۔
امام ترمذیؒ کی روایت کے مطابق یہ دابہ ، جس کو لڑکے نے پتھر سے ہلاک کیا تھا، شیر تھا۔ اور جب اس لڑکے نے راہب کو شیر کے ساتھ اپنے اس واقعہ کی اطلاع دی۔ تو راہب نے کہا، کہ تیری ایک خاص شان ہے اور تو اس وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوگا، مگر خبردار میرا کسی سے کچھ تذکرہ نہ کرنا۔
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں، کہ جب بادشاہ کو ان تینوں شخصوں کا حال معلوم ہوا تو اس نے ان کو طلب کر لیا، اور راہب و نابینا کو آرہ سے چروادیا۔ اور لڑکے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اس کو فلاں پہاڑ پر لیجا کر سر کے بل گرادو۔ چنانچہ بادشاہ کے فرستادگان اس کو پہاڑ پر لے گئے، اور جب انہوں نے اس کو گرانے کا قصد کیا تو لڑکے نے یہ دُعا مانگی کہ ،یااللہ تو جس طرح چاہے ان کو میری طرف سے بھگت لے، چنانچہ یہ کہتے ہی لوگ پہاڑ سے لڑھکنے لگے اور صرف لڑکا باقی رہ گیا۔ اور وہ لڑکا واپس بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کی میرے آدمی کہاں گئے؟ لڑکے نے جواب دیا، کہ اللہ تعالٰی نے میری طرف سے ان کا بھگتان کر دیا۔ اس پر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس لڑکے کو لے جا کر سمندر میں ڈبو دو۔
چنانچہ اس کے آدمیوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی اور اس کو لے جاکر سمندر میں دھکا دے دیا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے لڑکے کے بجائے ان لوگوں کو ہی ڈبو دیا۔ اور لڑکاپانی پر چلتا ہوا صحیح و سالم باہر نکل آیا۔ بادشاہ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ لڑکے کو دیکھ کر بہت متحیر ہوا۔ آخر کار لڑکا خود ہی بادشاہ سے مخاطب ہو کر بولا، کیا واقعی آپ کا ارادہ میری جان لینے کا ہے؟ بادشاہ نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر لڑکے نے کہا، کہ تم مجھ کو ہر گز نہیں مار سکتے، البتہ اگر مجھ کو مارنا ہی ہے تو اس کی ترکیب یہ ہے، کہ مجھ کو ایک تختہ سے باندھ کر ایک تیر یہ کہہ کر مارو، ،بِسم اللہ ربِ ھذا الغلام، مگر مارنے سے پہلے تمام لوگون کو ایک میدان میں جمع کر لینا۔ چنانچہ بادشاہ نے سب لوگوں کو جمع کرکے لڑکے کے تر کش سے ایک تیر نکال کر وہی الفاظ کہہ کر تیر مارا۔ تیر سیدھا لڑکے کی کنپٹی پر جالگا، اور اس کو ختم کردیا۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ شہید ہوتے وقت اپنی کنپٹی پر رکھ چھوڑا تھا۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر مجمع نے بیک زبان ہو کر کہا، کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔
بادشاہ کے مصاحبین نے بادشاہ سے کہا، کہ پہلے تو آپ صرف تین ہی شخصوں کے مسلمان ہونے سے گھبرا رہے تھے، مگر اب یہ سارا عالم مسلمان ہوگیا۔ اور آپ کے مخالف بھی ہوگیا۔ اب آپ کیا کریں گے؟ یہ سن کر بادشاہ نے حکم دیا، کہ خندقیں کھودی جایئں۔ اور ان میں آگ اور لکڑیاں بھر دی جایئں۔ اس کے بعد ان تمام لوگوں کو اس میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اور جو شخص بھی اسلام سے منحرف نہ ہوا اس کو آگ میں جھونک دیا گیا۔
امام مسلمؒ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ جب خندقیں کھود کر اور ان میں آگ جلاکر اہل اسلام کو اس میں جھونکا جا رہا تھا، تو بادشاہ کے فرستادگان ایک عورت کو جس کی گود میں ایک شیرخوار بچہ تھا، آگ میں ڈالنے کے لئے لائے، چنانچہ وہ عورت بچے کی وجہ سےے کچھ مضمحل سی ہو گئی۔ تو ماں کی یہ حالت دیکھ کر وہ شیرخوار بچہ بول اٹھا اور کہا، کہ اماں جان گھبرایئے نہیں، کیونکہ آپ حق پر ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس بچہ کی عمر صرف سات ماہ کی تھی۔
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ جو لڑکا شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قبر سے برآمد ہوا تھا، اور اس کا ہاتھ بدستور اس کی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا۔

(حیاۃ الحیوان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *