حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ الله فرماتے ہیں۔
سزا اور تادیب کی ضرورت پڑتی ہے اس کی اجازت ہے اور الضروری يتقدر بقدر الضرورة کے قاعدہ سے اتنی ہی تادیب ( سزادینے ) کی اجازت ہوسکتی ہے جو پرورش اور تربیت ( تعلیم ) میں معین ہو نہ اتنی جو درجہ ایلام ( سخت تکلیف اور مصیبت ) تک بن جائے ایسی زیادتی قطع نظر گناه ہونے کے انسانیت اور فطرت کے بھی خلاف ہے ( التبلیغ )
ضرب فاحش ( سخت مارنے ) سے فقہاء نے صراحتا منع فرمایا ہے اور جس ضرب ( مارسے ) جلد پر نشان پڑ جائے اس کو بھی فقہاء نے ضرب فاحش میں داخل کیا ہے اور جس سے ہڈی ٹوٹ جائے یا کھال پھٹ جائے وہ بدرجہ اولی ہے ( در المختار ) بلکہ ضرب فاحش سے خود استاد کو تعزیر دی جائے گی ۔ ( اصلاح انقلاب )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *