ایک مرتبہ ایک آدمی نے شیطان کو دیکھا، اس نے کہا، مردود تو بڑا ہی بدمعاش ہے، تو نے کیا فساد مچایا ہوا ہے۔ اگر تو آرام سے ایک جگہ بیٹھ جاتا تو دنیا میں امن ہو جاتا۔ وہ مردود جواب میں کہنے لگا، میں تو کچھ نہیں کرتا ٖصرف انگلی لگاتا ہوں۔ اس نے پوچھا، کیا مطلب؟ شیطان کہنے لگا، ابھی دیکھنا۔ قریب ہی ایک حلوائی کی دکان تھی۔ وہاں کسی برتن میں شیرہ پڑا ہوا تھا۔ شیطان نے انگلی شیرہ میں ڈبوئی اور دیوار پر لگا دی۔ مکھی آ کر شیرے پر بیٹھ گئی۔ اس مکھی کو کھانے کے لئے ایک چھپکلی آ گئی۔ ساتھ ہی ایک آدمی کام کررہا تھا۔ اس نے چھپکلی کو دیکھا، تو اس نے جوتا اٹھا کر چھپکلی کو مارا۔ وہ جوتا دیوار سے ٹکرا کر حلوائی کی مٹھائی پر گرا۔
جیسے ہی جوتا مٹھائی پر گرا، تو حلوائی اٹھ کھڑا ہوا اور غصہ میں آ کر کہنے لگا، اوئے، تو نے میری مٹھائی میں جوتا کیوں مارا؟ اب وہ الجھنے لگ گئے۔ ادھر سے اس کے دوست آ گئے اور ادھر سے اس کے دوست پہنچ گئے۔ بلآخر ایسا جھگڑا مچا کہ خدا کی پناہ۔
اب شیطان اس آدمی سے کہنے لگا، دیکھ میں نہیں کہتا تھا کہ میں تو صرف انگلی لگاتا ہوں۔ جب اس کی ایک انگلی کا یہ فساد ہے تو پورے شیطان میں کتنی نحوست ہوگی۔

ملفوظات حضرت مولانا تھانویؒ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *