بنی اسرائیل کے کسی بزرگ کو شیطان نے بارہا گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ایک روز وہ بزرگ کسی ضرورت سے باہر جانے لگے تو شیطان بھی ساتھ ہو لیا۔ اور راستے میں شہوت و عضب کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کبھی ڈرانے دھمکانے کی صورت اختیار کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔
وہ ایک جگہ بیٹھے تھے کے پہاڑ سے ایک بڑا سا پتھر ان کی جانب لڑھکایا۔ پتھر کو گرتے دیکھ کر وہ اللہ کے ذکر میں لگ گئے، پتھر دوسری جانب جا گرا۔
پھر شیطان نے شیر اور بھیڑیے کی شکل میں ان کو ڈرانے کی ناکام کوشش کی۔ ایک دفعہ وہ نماز میں مشغول تھے کہ سانپ بن کر سر سے پیر تک لپٹنے لگا۔ سجدہ کی جگہ منہ پھیلا کر بیٹھ گیا۔ وہ بزرگ اس سے بھی متاثر نہیں ہوئے۔
اب شیطان بالکل مایوس ہوکر کہنے لگا۔ میں نے آپ کو گمراہ کرنے کی تمام تدبیریں کرڈالی لیکن سب بیکار ثابت ہوئی۔ اس لیے اب میں نے دوستی کا ارادہ اور آپ کو کبھی نہ بہکانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔
بزرگ نے فرمایا! کمبخت! یہ بھی تیری آخری چال ہے مجھے تیری دوستی کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
اب شیطان بالکل مایوس ہوگیا تھا اس لئے کھل کر سامنے آ گیا اور کہنے لگا۔ اب آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں انسان کو کس طرح گمراہ کرتا ہوں۔
بزرگ نے فرمایا! ضرور بتا۔
شیطان نے کہا تین چیزوں کے ذریعے۔
بخل حسد نشہ
جب انسان میں بخل پیدا ہو جاتا ہے۔ تو وہ مال جمع کرنے اور خرچ نہ کرنے کی جانب مائل ہو کر دوسروں کی حق تلفی اور ان کا مال چھیننے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔
حاسد ہمارے ہاتھ میں اس طرح کھلونہ بنا رہتا ہے۔ جس طرح بچوں کے ہاتھ میں گیند۔ ہم اس کی عبادت و ریاضت کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنی دعاؤں کے ذریعے مردوں کو زندہ بھی کرنے لگے۔ تب بھی ہم مایوس نہیں ہوتے۔ اور ایک اشارہ میں اس کی ساری ریاضت کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔
جب انسان نشہ میں مست ہوتا ہے۔ تو بکری کی طرح ہم اس کا کان پکڑ کر ہربرائی کی طرف بآسانی لے جاتے ہیں۔
ابلیس نے یہ بھی کہا کہ غصہ کی حالت میں انسان شیطان کی گیند بن جاتا ہے۔ جس طرح بچے گیند کو اچھال کر خوش ہوتے ہیں شیطان بھی انسان کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ غصہ کی حالت میں صبر و ضبط سے کام لے تاکہ شیطان کا کھلونا نہ بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *