علماء نے لکھا ہے کہ صبر کی دس قسمیں ہیں۔

پیٹ کی خواہشات پر صبر کرنا، اسے قناعت کہا جاتا ہے اس کی ضد ( شرہ ) ہے۔

عضو مخصوص کی خواہشات پر صبر کرنا، اسے عفت کہا جاتا ہے، اس کی ضد ( شبق ) ہے۔

مصیبت پر صبر کرنا، اس کی ضد جزع ہے۔

مال نہ ملنے پر صبر کرنا، اسے ضبط النفس کہا جاتا ہے، اس کی ضد بطر ( اترانا ) ہے۔

جنگ میں صبر کرنا جس کا نام شجاعت و بسالت ہے، اس کی ضد بزدلی ( جبن ) ہے

غصہ کے وقت صبر کرنا جسے حلم ( بربادی ) کہا جاتا ہے اس کی ضد حمق ( حماقت ) ہے۔

حادثہ پر صبر کرنا جسے سعۃ الصدور ( وسعت قلبی ) کہا جاتا ہے، اس کی ضد ضجر ہے۔ ( رازوں کی حفاظت پر صبر کرنا جسے کتمان کہا جاتا ہے )

فضول خرچ پر صبر کرنا جسے زہد کہا جاتا ہے، اس کی ضد حرص ( لالچ ) ہے۔

متوقع امر کے عدم و قوع پر صبر کرنا جسے تودیہ کہا جاتا ہے اس کی ضد طیش ( غصے میں آنا ) ہے۔

قلیوبی ص 224

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *