تاریخ ابن نجار میں وہبؒ ابن منبہ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت ساحل پر کھڑی ہوئی کپڑے دھو رہی تھی۔ اور اس کے قریب اس کا لڑکا کھیل رہا تھا۔ اتنے میں ایک سائل آیا، اور عورت سے سوال کیا۔ عورت کے پاس ایک روٹی تھی، اس میں سے ایک لقمہ توڑ کر سائل کو دے دیا۔
تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی، کہ ایک بھیڑیا آیا، اور اس کے بچے کو اُٹھا کر لے گیا۔ عورت بھیڑیئے کے پیچھے میرا لڑکا میرا لڑکا کہتی ہوئی دوڑی۔ اس پر اللہ تعالٰی نے ایک فرشتہ کو نازل فرمایا، اس نے اس عورت کے بچے کو بھیڑئیے کے منہ سے چھڑا کر عورت کے سامنے ڈال دیا اور کہا، کہ یہ اس لقمہ کے عوض میں ہے، جو تم نے ابھی سائل کو دیا ہے۔

اور امام احمدؒ نے کتاب زہد میں سالمؒ بن ابی الجعد سے روایت کی ہے، وہ فرماتے ہیں، کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کر کہیں باہر گئی۔ راستہ میں ایک بھیڑیا مل گیا۔ اور اس سے بچہ کو چھین کر لے گیا۔ عورت بھیڑیئے کے تعاقب میں دوڑتی چلی گئی۔ راستے میں اس کو ایک سائل ملا۔ عورت نے اپنے پاس موجود ایک روٹی سائل کو دے دی۔ تھوڑی دیر بعد بھیڑیا واپس آیا، اور بچہ اس کے پاس چھوڑ گیا۔

(حیات الحیوان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *