رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سراپا پوشیدہ رہنے کے قابل ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔
رواہ الترمذی، مشکوٰۃ

ایک شدید و عید

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت عطر و خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں وہ عورت زنا کار رہے اور ہر آنکھ جو اس کو دیکھے زنا کار ہے
رواہ النسائی

عورت کے بے پردہ ہونے پر شیطانی عملہ حرکت میں آتا ہے

عورت ستر ہے اور ستر چھپانے والی کو کہا جاتا ہے عورت جب تک چھپی ہوئی ہے تو عورت ہے اس میں حیاء ہے پاکدامنی ہے اور اپنے مرد کے ساتھ وفاداری اور نباہ کا جذبہ ہے لیکن یہی عورت جب کالج دفتر کے ماحول میں قدم رکھتی ہے اور محتلف نظروں کا نشانہ بنتی ہے تو پھر اس کے اندر سے خاوند کی محبت اور وفاداری کا جذبہ نکل کر ہر مرد کے لئے پر کشش بننے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *