عورت کیلئے خوشبو لگا کر باہر نکلنا جائز نہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سے ایک عورت گزری جس سے خوشبو کی لپٹیں آری تھیں انہوں نے پوچھا خدا کی بندی تو مسجد سے آرہی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے پھر سوال کیا کہ کیا اسی غرض سے خوشبو لگائی تھی؟ اس نے کہاں ہاں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم سے سنا ہے، جو عورت اس مسجد میں آنے کیلئے خوشبو لگائے گی اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوگی جب تک وہ لوٹ کر اس طرح غسل نہ کرے جس طرح جنابت سے پاک ہونے کیلئے غسل کیا جاتا ہے۔ ابوداؤد

جب مسجد نبوی میں اور صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے زمانہ میں جہاں لوگوں کی اکثریت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ حضرات کی تھی یا ان کی اولاد تھی اور جس کو خیر القرون کہا جاتا ہے شروفتن سے پاک زمانہ تھا ہر طرف خیر ہی خیر کا دور دورہ تھا ایسے زمانہ خیر میں عورت کے خوشبو لگانے پر صحابی رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اتنی سخت وعید آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے سناتے ہیں اور نماز کو فاسد قرار دیتے ہیں تو پھر دور حاضر میں ہمارے اس معاشرہ میں جہاں ٹی وی اور وی سی آر کی لعنت کی وجہ سے دس سال کا بچہ بھی عورتوں کے مخفی رازوں سے واقف ہے اور بازار اوباش نوجوان سے بھرا پڑا ہے ۔ اس ماحول میں خوشبو لگا کر عورت کا بازار میں جانا کیونکر درست ہوسکتا ہے لیکن جب مردوں کے اندر سے غیرت کا جنازہ نکل جائے اور عورت سے حیا چھین لی جائے تو پھر کیا خوشبو لگا کر نکلنا اور کیا سرخی پاؤڈر لگا کر اور کیا دوپٹہ سر سے اتار کر سینہ تان کر نکنا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *