ایک تابعی جن کا نام ربعی رحمہ اللہ ہے وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں پہنچا میں نے دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔ میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا۔ اب باتیں کرنے کے درمیان کسی کی غیبت شروع ہوگئی۔ مجھے یہ بات بری لگی کہ ہم یہاں مجلس میں بیٹھ کر غیبت کریں۔ چنانچہ میں اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا۔ اس لیے کہ اگر کسی مجلس میں غیبت ہو رہی ہے، تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو روکے اور اگر روکنے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم اس گفتگو میں شریک نہ ہو۔ بلکہ اٹھ کر چلا جائے۔ چنانچہ میں اٹھ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد خیال آیا کہ اب مجلس میں غیبت کا موضوع ختم ہوگیا ہوگا۔ اس لیے دوبارہ اس مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اب تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر غیبت شروع ہوگئی۔ لیکن اب میری ہمت کمزور پڑ گئی۔ اور میں اس مجلس سے اُٹھ نہ سکا۔ اور جو بھی غیبت وہ لوگ کرتے رہے، میں اسے سنتا رہا۔ پھر میں نے بھی غیبت کے ایک دو جملے کہہ دیے۔
جب میں اس مجلس سے گھر آیا اور رات کو سویا۔ تو خواب میں ایک انتہائی سیاہ فام آدمی کو دیکھا۔ جو ایک بڑے طشت میں میرے پاس گوشت لے کر آیا۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ خنزیر کا گوشت ہے۔ اور وہ سیاہ فام آدمی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ خنزیر کا گوشت کھاؤ۔ میں نے کہا۔ میں مسلمان ہوں خنزیر کا گوشت کیسے کھاؤں؟ اس نے کہا یہ تمہیں کھانا پڑے گا۔ پھر زبردستی اس گوشت کے ٹکڑے میری منہ میں ٹھونسنے لگا۔ اب میں منع کرتا جاتا ہوں اور وہ ٹھونستا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے متلی اور قے آنے لگی مگروہ ٹھونستا جا رہا تھا۔ پھر اسی شدید اذیت کی حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔ جب بیدار ہونے کے بعد میں نے کھانے کے وقت کھانا کھایا، تو خواب میں جو خنزیر کے گوشت کا خواب اور بدبودار ذائقہ تھا وہ مجھے اپنے کھانے میں محسوس ہوا۔ اور تیس دن تک میرا یہ حال رہا، جس وقت بھی میں کھانا کھاتا تو ہر کھانے میں اس خنزیر کے گوشت کا بدترین ذائقہ میرے کھانے میں شامل ہو جاتا۔ اور اس واقعہ سے اللہ تعالی نے اس پر متبنہ فرمایا کہ ذرا سی دیر میں نے مجلس میں غیبت کی تھی اس کا برا ذائقہ میں تیس دن تک محسوس کرتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *