fmzalerts.com

پہلا واقعہ

سالم بن جعد فرماتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم میں ایک شخص لوگوں کو تنگ کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے اس کی شکایت کی اور درخواست کی کہ آپ اس کیلئے بد دُعا کریں۔
حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا، کہ جاؤ تم اس کے شر سے محفوظ ہو جاؤ گے۔ وہ آدمی روزانہ لکڑی چننے جاتا تھا۔ چنانچہ وہ اس دن لکڑی چننے کیلئے نکلا۔ اس دن اس کے ساتھ دو روٹیاں تھیں، اس نے ایک روٹی کھالی، اور دوسری صدقہ کر دی۔ چنانچہ وہ گیا اورلکڑی چن کر شام کو صحیح و سالم
واپس لوٹ آیا، اسے کوئی نقصان نہ پہنچا۔
لوگ صالح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ وہ آدمی تو لکڑی چن کر صحیح وسالم واپس آ گیا ہے، اسے تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ صالح علیہ السلام کو تعجب ہوا۔ انہوں نے اس آدمی کو بلا کر پوچھا کہ تم نے آج کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ آج لکڑی چننے نکلا تو میرے پاس دو روٹیاں تھیں، میں نے ایک کو صدقہ کر دیا اور دوسری کو کھا لیا۔
حضرت صالح علیہ السلام نے نے فرمایا، کہ اس لکڑی کے گٹھ کو کھولو۔ لوگوں نے اسے کھولا، تو اس میں سے ایک سیاہ سانپ کسی تنے کی مانند پڑا ہوا تھا اور اپنا دانت لکڑی کے ایک موٹے تنے پر گاڑے ہوئے تھا۔ صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اس عمل (یعنی صدقہ) کی وجہ سے اللہ تعالٰی نےتجھے اس سےنجات دی۔

دوسرا واقعہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک جماعت کا گزر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس ہوا۔ تو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں سے ایک کی موت “انشااللہ” آج واقع ہوگی۔ وہ لوگ کزر کر چلے گئے، جب شام کو واپس آئے تو ان کے ساتھ لکڑی کا ایک گٹھ تھا اور ان میں سے کوئی بھی نہیں مرا تھا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اسے رکھو اور جس کے مرنے کی پیشن گوئی کی تھی، اس سے فرمایا کہ اس گٹھے کو کھولو۔ چنانچہ جب اس نے لکڑی کا گڑھ کھولا تو اس میں سے ایک سیاہ سانپ نکلا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے آج کون سا عمل کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ایسا تو کوئی بھی عمل نہیں کیا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ غور کرو اور سوچو۔ چنانچہ اس آدمی نے جواب دیا کہ میرے پاس روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔ ایک مسکین میرے پاس سے گزرا اس نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے اس روٹی کا کچھ حصہ اسے دے دیا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا تمہارے اسی عمل کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے تمہیں اس (یعنی سیاہ سانپ) سے بچا لیا۔

(حیات الحیوان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *