جب مجنوں کا لیلی سے عشق شروع ہوا اور محبت نے شہرت پکڑی تو مجنوں کے پاس لیلی بات چیت کرنے اور اس کو دیکھنے سے منع کیا۔ اور اس کو قتل کر دینے کی دھمکی دی۔ تو اس کے پاس ایک عورت آیا کرتی تھی جو اس کو لیلی کی خبر دیا کرتی تھی۔ تو انہوں نے اس عورت کو بھی اس سے روک دیا۔ پھر مجنوں خود رات کے اندھیروں میں قبیلہ والوں سے چھپ کر جاتا رہا۔ جب اس طرح سے اس کا آنا جانا بہت ہوا تو لیلی کا باپ اپنی قوم کے چند افراد کو ساتھ لے کر خلیفہ وقت مروان بن الحکم کے پاس گیا۔ اور اس سے مجنوں کی شکایت کی اور اس سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمیں ہمارے علاقہ کے افسر کے نام فرمان لکھ دیں، تاکہ وہ مجنوں کو لیلی سے بات چیت کرنے سے روک دے۔ تو مروان نے اپنے افسر کے نام ان لوگوں کو فرمان لکھ کردیا۔ کہ وہ قیس ، مجنوں ، کو بلوا کر اس کو لیلی سے ملاقات کرنے سے روک دے، اور اگر پھر بھی مجنوں باز نہ آئے تو ان کو مجنوں کا خون معاف ہے۔ جب یہ فرمان اس کے افسر کے پاس پہنجا تو اس نے کارندے روانہ کرکے قیس اور اس کے باپ کو اور اس گھر والوں کو بلا کر جمع کیا۔ اور ان کے سامنے مروان کا فرمان پڑھ کر سنایا۔ اور قیس سے کہا خدا سے ڈرو اپنے خون کو ضائع نہ کرو لیکن قیس یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا۔

ہائے مجھ سے لیلی کو چھپا دیا گیا اور اس کے افسر نے مجھے مضبوط قسم دی ہے کہ میں اس سے نہ ملا کروں۔

لیلی کے متعلق بہت سے جوانوں نے مجھے دھمکی دی ہے ان میں ان کا باپ بھی ہے جو میرا بھی باپ ہے اور لیلی کا بھی ان سب کے میرے لئے سینے تنگ ہو گئے۔

وہ کسی اور چیز پر مجھے مجبور کرتے ہیں لیکن میں تو لیلی کو چاہتا ہوں اور میرا دل لیلی کے پاس اسیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *