ابوعلی بن حامد بن ابوبکر بن ابو حامد بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد کے ایک دوست نے بیان کیا کہ تمہارا دادا بیت المال کا افسر تھا اور دارالخلافہ میں اس کا آنا جانا تھا۔ جب یہ واپس آتا تھا تو رات کی چوتھائی یا تہائی گزر چکی ہوتی تھی۔ یہ اس وقت اپنی بگھی پر بیٹھ کر لوٹتے تھے۔ اور ہمیں ضرورت رہتی تھی کہ ہماری بڑی بڑی کشتیاں ہوں۔ چنانچہ جب وہ بگھی میں بیٹھتے تھے تو ہم اپنی کشتیاں پیش کرتے تھے۔ اس میں طویل عرصہ سے میری ایک ملاح کے ساتھ ملاقات تھی ۔

چنانچہ ایک رات ایسی آئی جس میں تمہارے دادا کے ساتھ نکلا اور اپنے ملاح کو تلاش کیا تو وہ مجھے نہ ملا تو تمہارے دادا کے بعض ساتھیوں نے مجھے اپنی کشتی میں سوار کرلی ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے اس ملاح کی کچھ خبر نہ ہوئی اور اس طرح سے کئی سال گزرر گئے ۔ جب کئی سال گزر گئے تو میں نے اس کوطیلسان کے علاقہ کرخ میں دیکھا ۔ جوتا ، جوڑا اور چادر پہنے بڑے تاجروں کی شکل بنائے ہوئے تھا ۔ میں نے پوچھا تم فلاں ہو ؟  جب اس نے مجھے دیکھا تو گھبرا گیا ۔ میں کہا تو برباد ہو جائے قصہ کیا ہے ؟ اس نے کہا بہتر ہے ۔ میں نے پوچھا یہ شکل و انداز کیساہے ؟کہا میں نے ملاحی چھوڑ کر تجارت شروع کردی ہے ۔ میں نے پوچھا تمہیں تجارت کے لئے رقم کہاں سے ملی ؟ اس نے کوشش کی کہ ٹال مٹول کر جائے ۔ میں نے کہا میرے سامنے کھینچا تانی مت کرو خدا کی قسم جب تک تم مجھے نہیں بتاؤگے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا اور یہ بھی بتاؤ کہ تم نے مجھے اس رات کیوں چھوڑا تھا پھر میں نے تجھے اب تک نہیں دیکھا  ؟ اس نے کہا کہ اس شرط پر بتاتا ہوں اگر تم میری بات کو پردہ میں رکھوگے تو ؟ میں نے کہا ہے ۔ تو اس نے مجھ سے قسم اٹھوائی تو میں نے قسم اٹھادی ۔

اس نے بتایا کہ تم اس دن دیر سے آئے تھے ۔ مجھے پیشاب نے تنگ کیا تو میں دارالخلافہ سے نہر معلکی کے راستہ پر آگیا اور وہاں پر پیشاب کیا ۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک شخص اترا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ تم مجھے سوار کرکے لے چلو ۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھ ایک ساتھ ایک سوار موجود ہے اس کو چھوڑ کر جانا ممکن نہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے یہ دینار لو اور مجھے لے چلو ۔ جب میں نے دینار کا نام سنا تو مجھے لالچ ہوئی اور میں نے سمجھا کہ یہ یہاں سے فرار ہونا چاہتا ہے ۔ میں نے پوچھا آپ کو کہاں لے جاؤں ؟ اس نے کہاں چمڑا رنگنے والوں کے پاس ۔ میں نے کہاں کہ آپ کو وہاں نہیں لے جاسکتا ۔ تو اس نے کہاں دو دینار لے لو ۔ تو میں نے کہاں مجھے دو ۔ تو اس نےمجھے دو دینار دیئے جن کو میں نے آستین میں رکھ دیا ۔

اس آدمی کے ساتھ ایک غلام بھی تھا ۔ اس نے اس کو کہا تم جاؤ جو تمہارے پاس ہے اس کو لے کر آؤ ۔ تو غلام چلا گیا اور دیر نہ لگائی کہ ایک لونڈی ساتھ لے کر آگیا میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرے اور لباس کے اعتبار سے کسی کو نہیں دیکھا ۔ اس کے ساتھ بہت خوبصورت بڑی ساری ٹوکری اور میوؤں ، برف اور شراب کے طباق تھے ۔ یہ چاندی رات تھی ۔ یہ غلام سارنگی بھی لایا تھا جس کو اس لونڈی نے اپنی گود میں رکھ لیا ۔

اس طرح کے اچھے وقت نے مجھ پر آسان کردیا تھا کہ میں تجھے چھوڑ کر ان کےساتھ چلا جاؤں ۔

اس کے بعد اس نے اس غلام کو کہا کہ تم واپس چلے جاؤں چنانچہ وہ واپس ہوگیا اور مجھے کہا کہ تم بھی چلو تو میں بھی کشتی کو لے کر چل دیا ۔ اس لونڈی نے اپنے چہرہ سے پردہ ہٹادیا تھا اور یہ چودہویں کے چاند سے بھی  کافی زیادہ حسین تھی ۔ چنانچہ جب میں چمڑہ رنگنے والوں کے قریب پہنچاتو اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور مجھے کہا جہاں میں کہتا ہوں تم وہاں چلے جاؤں ورنہ میں تمہاری گردن ماردوں گا ۔ میں نے کہا آپ کو اس کی حاجت نہیں آپ کو جو حکم کریں میں تابعدار ہوں ۔ تو اس نے عورت سے کہا تم کچھ کھاؤ گی ؟ اس نے کہا ہاں ۔ تو اس نے جو کچھ ٹوکری میں تھا اس سے نکالا تو وہ بہت پاکیزہ کھانا تھا ۔ چنانچہ ان دونوں نے کھانا کھایا اور ٹوکری میری طرف پھینک دیا ۔پھر اس لونڈی نے بنسری اٹھائی اور بہت خوبصورت انداز و آواز میں گانا گایا ۔ پھر اس نے مجھے کہا اے ملاح اگر تمہارے نشہ میں آنے کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی شراب پلاتا ۔ میں نے کہا اے استاد مییں بیس رطل تقریباً دس کلو پی جاتا ہوں پھر بھی نشہ نہیں آتا ۔ تو اس نے مجھے ایک برتن دیا جس میں پانچ رطل شراب ہوگی اس نے کہا پیو یہ سب تمہارا ہے ۔ تو میں اس کے گانے کے ساتھ ساتھ پیتا رہا اور وہ بھی پیتے رہے یہاں تک کہ وہ اس کے قریب ہوا اس کی بہت دیر بوس و کنارہ کیا اور خواہش تیز ہوئی تو وہ میرے سامنے اس کے پاس گیا اور اس نے ایسا کئی بار کیا پھر مست و مخمور ہوا پھر کہا اے فلانی تو نے میرے عہدو پیمان کی خیانت کی ہے اور فلاں کے پاس گئی ہے اور اس نے ایسا ایسا کیا ہے پھر اور بھی کئی آدمیوں کے نام لیتا رہا اور اس سے اقرار کیتا رہا ۔مگر وہ کہتی رہی اے میرے آقا اللّٰہ کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا ان لوگوں نے مجھ پر جھوٹی تہمت لگائی ہے ۔ اس نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے میں نے فلاں رات کو فلاں گھر میں خود دیکھا تھا تجھے فلاں نے بلایا تھا اور تم نے یہ کیا اور یہ کیا اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اب کیا حیلہ چل سکتا ہے ۔ تجھے پتہ ہے میں نے تجھے یہاں کیوں لایا ہوں اور یہاں سخت ستکیوں کہا ؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ۔ اس نے کہاں تاکہ میں تجھے الوداع کردوں اور آخری عہد باندھ کر تجھے قتل کردوں پھر تجھے پانی میں پھینک دوں ۔

تو اس لونڈی نے بہت آہ فریاد کی پھر پوچھا اے میرے آقا تمہارا دل اس کو پسند کرتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم ۔ پھر وہ اس کے قریب گیا اور اس کا ازار بند نکال کر اس کو باندھا ۔ تو میں نے کہا اے میرے آقا اللّٰہ سے ڈرو ! ایسے شان و شوکت والے چہرہ سے ، تم تو اس سے محبت کرتے ہو اور پھر یہ ستم کیوں کررہے ہو ۔ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسی وقت تم سے ابتداء کرتا ہوں ۔ پھر اس نے تلوار نکالی تو میں نے فریاد کی اور چپ ہو گیا ۔ تو وہ اس لونڈی کی طرف بڑھا اور اس کو ذبح کردیا مگر اس کو پکڑے رکھا حتیٰ کہ اس کا خون بہہ گیا اور مر گئی ۔ پھر اسکے زیور اتار کر کشتی کے درمیان پھینکنے لگا ۔ پھر اس کے کپڑے اتارے ۔ اس کا پیٹ چاک کیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے دریا میں ڈالتا رہا ۔ اس وقت ہم مدائن کے قریب پہنچ چکے تھے اور رات کا اکثر حصہ گذر چکا تھا اور میں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ اور گھبراہٹ سے مرا جا رہا تھا ۔ میں یقین کر لیا کہ یہ اب مجھے قتل کرے گا تاکہ میں لوگوں کو اس کے جرم کی خبر نہ کر سکوں ۔ لیکن مجھے کوئی حیلہ بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔

لیکن میں محفوظ رہا اور اس نے خود کو ایسا گرایا جیسے کوئی بے ہوش ہوگیا ہو ۔ پھر وہ روکر کہنے لگا میں نے دل کی بھڑاس نکال دی اور خود کو قتل کر ڈالا ۔ پھر  خود کو تھپڑ مارنے لگا ۔ اور بنسری اور دوسرا سامان میوے اور کھانے پینے جا دریا میں پھینک دیا ۔ فجر طلوع ہوکر روشن ہوگئی اور ہمارے اور مدائن شہر کے درمیان صرف چار کلومیٹر کا فاصلہ رہ گیا تھا ۔ مجھے اس کے سامنے حیلہ سوچھا میں نے اس کو کہا اے میرے آقا صبح ہوچکی ہے کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ میں نے سوچا یہ تھا کہ یہ کنارہ پر چڑھے تو میں کشتی کو بھگا کر اس کو اکیلا چھوڑ جاؤں ۔ اس نے کہا ہاں مجھے کنارہ پر چڑھا دو تو میں نے کشتی کو کنارہ پر لگایا اور اس کو باہر پھینکا لیکن وہ کشتی سے جھبی ایک ہاتھ اونچا ہوا تھا کہ ایک درندہ نے اس کو دبوچ لیا ۔ اللّٰہ کی قسم میں نے اس کو درندہ کے منہ میں ایسے دیکھا جیسے تنور کے منہ میں چوہا ۔ میں اس وقت سے دل کی خوشی کو نہیں بھول سکا جو مجھے اس وقت حاصل ہوئی تھی ۔

چنانچہ میں نے کشتی کو روانہ کردیا اور جب مدائن کو عبور کیا تو کنارا پر اترا اور تمام زیور جمع کئے اور ان کو کشتی کے تاقچہ میں رکھ دیا اور کپڑوں کے بارہ سوچ کر یہ کیا کہ ان پر جو خون کے اثرات ہیں ان کو دھوکر ان کپڑوں میں بھی چھپادوں ۔ اور بصرہ میں رہنے لگا ۔ میں نےغور سے دیکھا تو میرے ہاس ایک ہزار اشرفیوں تقریباً ساٹھ لاکھ روپے کے زیور تھے اور لباس بھی جن کو میں نے بہت سی اشرفیوں کے عوض فروخت کیا ۔ اور بصرہ میں رہ کر تجارت کرنے لگ گیا اور بغداد واپس جانے سے ڈر گیا تاکہ مجھے وہ غلام نہ دیکھے لے یا مجھ سے اس آدمی کا مطالبہ نہ شروع کردیا جائے یا مجھ سے اصل ماجرانہ نہ پوجھا جائے ۔ اور یہ تجارت کا سامان بڑھتا رہا تو میں نے اس تمام سامان کے بدلہ میں بغداد کی تجارت خریدلی ۔

نوٹ

دیکھ لیں اس معصوم لونڈی پر الزام لگا کر اس کو ذبخ کرنے پھر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے کا کیسا بھیانک انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ ایسے مظالم سے محفوظ رکھے اورظالموں کو ہدایت دے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *