معلم کو پانچ چیزوں کی رعایت رکھنا لازم ہے

فقیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر معلم ثواب کی نیت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا عمل انبیاءعلیہم السلام والا عمل بن جائے تو اسے پانچ چیزوں کی رعایت رکھنا لازم ہے۔
اجرت کی شرط مت لگائے اور نہ ہی اس پر شدید تقاضا اور اصرار کرے جو کوئی ہدیہ دے دے قبول کرے جونہیں دیتا اس کے پیچھے نہ پڑے تاہم اگر بچوں کو ہجے پڑھانے لکھائی سکھانے اور حفظ کرانے پر معاوضہ کی شرط لگا لیتا ہے تو جائز ہے۔
ہمیشہ باوضور ہے کیونکہ اثنائے تعلم میں اسے قرآن پاک چھونے کی بار بار نوبت آئے گی۔
اپنی تعلیم میں پوری ہمدردی کا جذبہ اور بچے کا خوب خیال رکھے۔
بچوں میں مساوات اور برابری رکھے لڑائی جھگڑے کے موقع پر عدل و انصاف قائم رکھے۔ اغنیاء کے بچوں کی طرف میلان اور غرباء کے بچوں سے بے رخی کبھی نہ کرے۔
بچوں کو حد سے زیادہ اور شدید پٹائی کی سزا نہ دے کہ قیامت کے دن اس کا حساب ہوگا۔ خبيب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ معلمین حضرات بادشاہوں والا نصیب لے کر آتے ہیں ان کا حساب بھی انہیں جیسا ہوگا م۔ ( تخفہ معلم )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *