عبدالحمید بن محمود فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس حاضرتھا کہ ایک شخص آیا اور کہنےلگا کہ ہم حجاج کے پاس جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب ہم مقام “صفاح” پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہو گیا۔
ہم نے اس کے لیے ایک قبر کھودی، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک سیاہ سانپ آیا اور اس نے پوری قبر کو اپنےقبضہ میں کر لیا۔ ہم نے ایک دوسری قبر کھودی مگر پھر وہی ہوا۔ کہ اسی طرح ایک سیاہ سانپ آیا اور پوری قبر پر قابض ہوگیا۔ ہم نے ایک تیسری قبر کھودی مگر پھراسی طرح ہوا، کہ ایک سیاہ سانپ آیا اور اس نے قبر کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ تو بالآخر ہم اسے اسی طرح چھوڑ کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے ہیں کہ آپ فرمائیں اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اس کا وہ عمل ہے، جسے وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا۔ پس تم جاؤ اور اسے اسی طرح کسی کنارے میں دفن کردو۔ کیونکہ اگر تم اس کیلئے پوری زمین بھی کھود ڈالوگے تو تمہیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ وہ شخص کہنے لگا کہ ہم نے بالآخر اپنےمردہ ساتھی کو سانپ کے ساتھ دفن کر دیا۔
اور سفر سےواپسی کے بعد میں اس کی بیوی کے پاس گیا تا کہ اس کے عمل کے متعلق پوچھ سکوں تو اس کی بیوی نے بتایا، کہ وہ کھانا فروخت کرتا تھا۔ ہر روز اپنے اہل و عیال کیلئے شام کی خوراک اس میں سے نکال لیا کرتا تھا۔ اور اس کی جگہ اتنی ہی جو کی بھوسی ملا کر بیج دیا کرتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا عذاب اس طرح دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *