جدید ٹیکنالوجی کی بدولت روز بروز نئی سہولیات انسان کو میسر آرہی ہیں جن کی افادیت و اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن یہ چیزیں اگر جائز حدود میں رہیں تو رحمت ہی رحمت ثابت ہوں لیکن اگر حدود سے متجاوز ہو جائیں تو ان سے بڑی زحمت کوئی نہ ہو۔ یہی حال موبائل فون کا ہے۔ اس پر بھی بات چیت کے دوران انہی آداب کا خیال ضروری ہے جو درج بالا سطور میں فون کے تحت آ چکے ہیں۔ آج موبائل درجہ ضرورت سے تجاوز کرکے فیشن کا روف دھار چکا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اگر ہمیں موبائل کا استعمال کرنا ہی ہے تو کہی ایسا نہ ہو ہم بلا وجہ دوسروں کو پریشان کرنا، یا اپنے قیمتی اوقات کو اس کے لئے ضائع کرنا شروع کردیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے کتنے ہی نوجوان اس نعمت کا غلط استعمال کرکے اس رحمت کو زحمت میں تبدیل کئے ہوئے ہیں۔
جس طرح گھر میں مرد کی موجودگی میں عورت کا فون سننا شرعاً مناسب نہیں اسی طرح بلا ضرورت موبائل رکھنا اور خاص طور پر خواتین کا اسے اپنے استعمال میں رکھنا بعض اوقات تلخ حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔
لہٰذا غور و فکر کیجئے۔

دین و دانش جلد سوم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *