حضرت علامہ عبد اللہ بن اسعد یافعی رحمہ اللہ نے اپنے کتاب ،الترغیب والترہیب، میں ایک نوجوان کا واقعہ نقل فرمایا ہے۔ کہ ایک نوجوان سے ہمیشہ مشک اور عنبر کی خوشبو مہکتی تھی۔ اس کے متعلق کسی نے اس سے کہا کہ آپ ہمیشہ اتنی عمدہ ترین خوشبو میں معطر رہتے ہیں اس میں کتنا پیسہ بلاوجہ خرچ کرتے رہتے ہیں؟ اس پر نوجوان نے جواب دیا۔ کہ میں نے زندگی میں کوئی خوشبو نہیں خریدی، اور نہ ہی کوئی خوشبو لگائی، سائل نے کہا۔ پھر یہ خوشبو کہاں سے اور کیسی مہکتی ہے؟ نوجوان نے کہا۔ کہ یہ ایک راز ہے جو بتلانے کا نہیں۔ سائل نے کہا آپ بتلا دیجئے شاید اس سے ہم کو بھی فائدہ ہوگا۔
نوجوان نے اپنا واقعہ سنایا کہ میرے باپ تاجر تھے۔ گھریلو سامان فروخت کیا کرتے تھے۔ میں ان کے ساتھ دکان میں بیٹھا تھا۔ ایک بوڑھی عورت نے آکر کچھ سامان خریدا، اور والد صاحب سے کہا کہ آپ لڑکے کو میرے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ میں اس کے ساتھ سامان کی قیمت بھیج دوں۔ میں اس بوڑھی عورت کے ساتھ گیا تو ایک نہایت خوبصورت گھرمیں پہنچا اور اس میں ایک نہایت خوبصورت کمرے میں ایک نہایت خوبصورت لڑکی موجود تھی۔ وہ مجھ کو دیکھتے ہی میری طرف متوجہ ہوئی۔ کیونکہ میں بھی نہایت حسین ہوں۔ میں نے اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار کیا تو اس نے مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ اور اللہ پاک نے اس وقت میرے ذہن میں یہ بات ڈال دی، کہ میں نےکہا کہ مجھے قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء جانے کی ضرورت ہے۔ اس نے فوراً اپنی باندیوں اور خادموں سے کہا کہ جلدی سے بیت الخلاء ان کے لیے صاف کر دو۔ میں نے بیت الخلاء میں داخل ہر کر خود اجابت کر کے نجاست کو اپنے بدن اور کپڑوں پر مل لیا۔ اور اسی حالت میں باہر آیا۔ جب مجھے اس حالت میں دیکھا تو اس نے کہا، اسے فوراً یہاں سے باہر نکال دو۔ یہ مجنوں ہے۔
میرے پاس ایک درہم تھا، میں نے اس سے ایک صابن خرید کر ایک نہر میں جا کر غسل کیا۔ اور کپڑے بھی دُھو کر پہن لیے۔ اور میں نے یہ راز کسی کو بتایا نہیں۔
جب میں اسی رات میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ نے مجھ سے آکر کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو جنت کی بشارت ہے۔ اور معصیت سے بچنے کے لیے جو تدبیر تم نے اختیار کی تھی، اس کے بدلے میں تم کو یہ خوشبو پیش کی جا رہی ہے۔ چناتچہ میرے پورے بدن پر وہ خوشبو لگائی گئی۔ جو میرے بدن اور کپڑوں سے ہر وقت مہکتی رہتی ہے جو آج تک لوگ محسوس کرتے ہیں۔

One thought on “نوجوان کے بدن سے مشک وعنبر کی خوشبو”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *