مسلم بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں، کہ میں ایک مرتبہ بحرین گیا۔ وہاں ایک عورت نے میری دعوت کی۔ وہ عورت بظاہر مالدار تھی۔ اس کے چند لڑکے تھے، اور غلام بھی تھے۔ لیکن وہ خود غمگین نظر آرہی تھی۔ میں نے چلتے وقت معلوم کیا کہ کوئی حاجت ہو تو بتاؤ۔ کہنے لگی، یہ خواہش ہے کہ آپ جب بھی یہاں تشریف لائیں میرے یہاں قیام فرمائیں۔
چند سال کے بعد میرا پھر جانا ہوا، اس کے یہاں پہنچا تو نقشہ بدلا ہوا پایا۔ نہ لڑکے ہی نظر آئے نہ غلام نیز دولت کے آثار بھی دکھائی نہ دیے۔ لیکن عورت انتہائی خوش وخرم تھی۔
میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگی۔ آپ کے جانے کے بعد مال تجارت دریا میں غرق ہو گیا۔ اور جو خشکی کہ راستے سے گیا تھا وہ برباد ہو گیا۔ لڑکوں کا انتقال ہوگیا۔ غربت کی وجہ سے غلام فرار ہوگئے۔
میں نے کہا۔ اللہ تجھ پر رحم کرے اس پر خوشی کیسی؟
کہنے لگی، پہلے میں اس لئے غمگین تھی کہ مجھے یہ خطرہ تھا کہ کہیں اللہ نے میری نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں نہ دے دیا ہو۔ اب ساری نعمتیں چھین گئیں، تو یقین ہے کہ آخرت میں ملیں گی اس لیے خوش ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *