اللّٰہ تعالٰی نےمرد کی فطرت میں عورت کی طرف اور عورت کی فطرت میں مرد کی طرف میلان رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میلان کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللّٰہ تعالٰی نے نکاح کی صورت پیدا فرمائی ہے ۔ مرد کا غیر عورت کی طرف اور عورت کا غیر مرد کی طرف میلان حرام ہے ۔ اور مرد و عورت کی عزت اللّٰہ تعالٰی کی صفت غیرت کی تجلّی ہے ۔ لیکن خنزیر کھانے والی قومیں غیرت کو کیا جانیں ۔ ہر غذا جو کہ جز و بدن بنتی ہے آدمی کے بدن میں اس کی تاثیر ہوتی ہے ۔لیکن کسی قوم کے بے غیرت بن جانے سے غیرت بدل نہیں جاتی غیرت ہر حال میں غیرت ہی ہے ۔

پردہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمتہ اللہ ایک عجیب  مثال دیا کرتے تھے فرمایا  دودھ کی طرف بلی کا ملان ہے کہ وہ دودھ پر حملہ کرکے پی جاتا ہے، تو اس میلان کو دیکھ کر دودھ کی حفاظت کی جاتی ہے،  عام طور پر بلی کو باندھ کر نہیں رکھتے، بلکہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جاتا  ہے کہ دودھ کو محفوظ کر  لیا جاتا ہے، کہ دودھ کے برتن پر ڈھکن وغیرہ دیدیا جاتا ہے،  یہ پردہ ہے ۔ اب یقینی بات ہے کہ ایک اجنبی مرد اور عورت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے، بلکہ یہ میلان بلی کا دودھ کی طرف میلان سے زیادہ ہے، کیونکہ وہاں میلان یکطرفہ ہے اور ادھر دو طرفہ میلان ہے جب دودھ کی حفاظت کیلئے ڈھکن وغیرہ کی ضرورت ہے، تو یہاں پردہ کی کیوں ضرورت نہیں ۔ یک طرفہ میلان میں تو ڈھکن ہے اور دو طرفہ میلان میں نہیں ۔ یہ چارہ تو نہیں ہو سکتا کہ مرد کورسی سے باندھ دیں ورنہ دنیا کا کاروبار ختم ہوکر رہ جائیگا کیونکہ مرد کام کاج کرتا ہے ۔ اس لئے حفاظت کی یہی صورت ہے کہ عورت جب بھی گھر سے باہر نکلے توپردہ میں ہو ۔ اسلام کا یہ حکم برحق ہے اور عقل و انصاف پر مبنی ہے اور حق ہے ۔ اب یہ انسان کی مرضی کہ اسے تسلیم کرے یا دل و نظر کا اندھا بن جائے ۔

کن رشتہ داروں سے پردہ کرنا ضروری ہے

چچا زاد ۔ ماموں ۔ خالہ زاد ۔ پھوپھی زاد ۔ بہنوئی ۔ نندوئی ۔ دیور ۔ جیٹھ ۔ خالو ۔ پھوپھا اور تمام غیر محرم سے پردہ کا اہتمام کریں ۔ اور بے پردہ خواتین اپنی دنیوی راحت و سکون کے پیش نظر ہی پردہ کا اہتمام کرکے دیکھیں کہ انہیں کسطرح سکون نصیب ہوتا ہے ۔ کم از کم بے پردگی کے نقصانات کو سوچ سوچ کر اپنے آپ کو سمجھائیںکہ ہماری عزت و آبرو کا محافظ پردہ ہے ۔

شرم و حجاب

اپنے رشتہ کے بھائیوں سے اس طرح پیش آؤ گویا پردہ ہی کرتی ہو، کبھی ان سے آنکھ ملا کر مخاطت نہ ہو، کوئی کام اپنا بنایا ہوا دوسروں کو نہ دکھاؤ، ہنسی مذاق نہ کرو، اگر وہ چھیڑیں تو تم مخاطب نہ ہو بلکہ تمہیں ناگوار ہو، ایسے برتاؤ رکھو جس سے ظاہر غیرت پائی جائے ۔ اس کا بھی خیال رکھو کہ تمہارا نام لے کر کوئی زور سے پکارے کہ باہر والے تمہارے نام سے واقف ہو جائیں تمہیں خبر بھی نہ ہو، گھر میں کسی کو بلا کر نہ بٹھاؤ، ان کا راگ نہ سنو، ہر بات کی احتیاط رکھو، اپنے کپڑے، اپنی وضع وہ رکھو جو تمہیں زیبا ہو ، بوڑھی بن کر نہ رہو، کسی کی بات میں دخل نہ دو، آنکھیں چار کرکے باتیں نہ بناؤ ۔ پان تمباکو کھا کر منہ لال نہ کرو ۔ یہ لڑکیوں کو نازیبا ہے ۔ شرم کے ساتھ اٹھو بیٹھو، سر نہ کھلے،

ادھر ادھر دیکھتی نہ چلو، کھلی جگہ نہ بیٹھو، تاک جھانک سے باز آؤ، بدنامی سے بچتی رہو نہ تو بد ہو نہ بدنام ہو، بری بات جلد مشہور ہوتی ہے، کسی لڑکے کے ساتھ نہ بیٹھو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *