پھر بھی حضرت موسٰی علیہ السلام کو غصہ نہ آیا

امام فخرالدین رازیؒ جو بہت بڑے مفسر ہیں اپنی تفسیر کبیر میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، کہ نبوت ملنے سے پہلے حضرت موسٰی علیہ السلام کے ریوڑ سے ایک بکری بھاگ گئی۔ ان کو پکڑنے کے لیے حضرت موسٰی علیہ السلام دوڑے۔ وہ بھاگتے بھاگتے میلوں دوڑ گئی۔ اور حضرت موسٰی علیہ السلام لاٹھی پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں، کاتٹوں سے آپ کے پاؤں مبارک لہولہان ہوگئے۔ اور بکری کا بھی یہی حال ہوگیا۔ تمام کانٹے چبھ گئے اس کے پاؤں سے بھی خون بہہ رہا تھا۔
آخر میں وہ تھک گئی، اور کھڑی ہو کر کانپنے لگی۔ تب آپ نے اس بکری کو پکڑ لیا۔ اگر اسی وقت ہم وہ بکری پکڑتے تو کیا کرتے؟ نہ معلوم اس کی کتنی پٹائی کرتے بلکہ چھری سے ذبح ہی کر ڈالتے۔ لیکن حضرت موسٰی علیہ السلام نے کیا کیا؟ اپنے کانٹوں سے پہلے اس کے کانٹے نکالے اور اس کے پیر دبانے لگے۔ اس کے بعد اس کو اپنے کندھوں پر اُٹھالیا، اور جہاں سے وہ بکری بھاگی تھی اس جگہ تک پہنچا دیا۔ اس وقت آپ کو غصہ نہیں آیا، بلکہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے، کہ اے بکری، اگر تجھ کو موسٰی پر رحم نہیں آیا تو اپنے اوپر تو رحم کرتی۔ تو نے اپنے آپ کو اتنی مصیبت میں کیوں ڈالا؟
امام فخرالدین رازیؒ لکھتے ہیں کہ فرشتوں نے اس وقت اللہ تعالٰی سے گزارش کی کہ یا اللہ، یہ شخص نبوت کے قابل معلوم ہوتا ہے، اتنا صبر، اتنی برداشت، اتنا علم۔ اے اللہ اپنی رحمت سے آپ اس کو نبی بنا دیجیے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا، کہ میں نے ان کو نبوت کے لیے منتخب کیا ہوا ہے۔ یہ ہمارے علم میں نبی ہیں۔ جن کے درجے بلند ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالٰی قوت برداشت عطا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *