علامہ یافعیؒ نے “الترعیب والترتیب” میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے۔ کہ ایک نوجوان نہایت بدکار تھا۔ لیکن وہ جب بھی کسی معصیت کا ارتکاب کرتا تو اس کو ایک کاپی میں نوٹ کر لیتا تھا۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک عورت نہایت غریب، جس کے بچے کئی دنوں سے بھوکے تھے، بچوں کی پریشانی نہیں برداشت کر سکی۔ تو اس نے اپنے پڑوسی سے ایک عمدہ ریشم کا جوڑا عاریت پر لیا، اور اسے پہن کر نکلی۔ تو اس نوجوان نے دیکھ کر اپنے پاس بلایا۔ جب اس نے اس عورت ساتھ بدکاری کا ارادہ کیا تو عورت روتی ہوئی تڑپنے لگی۔ اور کہا میں فاحشہ زانیہ نہیں ہوں۔ میں بچوں کی پریشانی کی وجہ سے اس طرح نکلی ہوں۔ جب تم نے مجھے بلایا تو مجھے خیر کی امید ہوئی۔ اس نوجوان نے اسے کچھ درہم وروپئے دے کر چھوڑ دیا۔ اور خود رونے لگا۔ اور اپنی والدہ سے آکر پورا واقعہ سنا دیا۔
اس کی والدہ اس کو ہمیشہ روکتی اور منع کرتی تھی۔ آج یہ خبر سن کر بہت خوش ہوئی۔ اور کہا بیٹا، تو نے زندگی میں یہی ایک نیکی کی ہے۔ اس کو بھی اپنی کاپی میں نوٹ کر لے۔ چنانچہ اس نے حاشیہ پر نوٹ کر لیا۔ اور نہایت غمگین ہو کر سویا۔ جب بیدار ہوا تو دیکھا، کہ پوری کاپی سفید اور صاف کاغذوں کی ہے۔ کوئی چیز لکھی ہوئی باقی نہیں رہی۔ صرف حاشیہ پر جو آج کا واقعہ نوٹ کیا تھا، وہی باقی ہے اور کاپی کے اوپر کے حصہ میں یہ آیت لکھی ہوئی تھی۔
انّ الحسنٰت یُذھبنَ السّیاٰتِ ترجمہ بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
اس کے بعد اس نے ہمیشہ کیلئے توبہ کر لی اور اسی پر قائم رہ کر مرا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *