مظلوم کی دُعا اسی وقت قبول کی جاتی ہے۔
چلتے چلتے ایک جنگل بیابان اور لق ودق میدان میں پہنچے جہاں ایک گہری وادی تھی، اور وہاں بہت سارے لوگ مرے پڑے تھے۔
وہاں پہنچ کر وہ کہنے لگا، کہ خچر کو زرا روک، میں اترنا چاہتا ہوں۔ خچر رکتے ہی وہ شخص اتر پڑا اوراس نے چھری نکالی،